راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قومی ایگزیکٹو صدر تیجسوی یادو نے اتوار کے روز مہنگائی کے مسئلے پر مرکز کی مودی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ڈبل انجن حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے اور اس کا سب سے زیادہ اثر غریب اور متوسط طبقے پر پڑ رہا ہے۔ بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کر کے کہا کہ ’’ڈبل انجن حکومت نے کھانے پینے کی اشیا، پٹرول-ڈیزل، کھاد-بیج، بجلی اور گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا کر کسانوں اور عام لوگوں کو پریشان کر دیا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’مہنگائی کو ڈائن کہنے والے آج اسے مہارانی سمجھ کر اس سے چپکے بیٹھے ہیں۔ حکومت میں بیٹھے لوگ مہنگائی کو ختم کرنے میں پوری طرح ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔‘‘
آر جے ڈی لیڈر نے کہا کہ ڈبل انجن حکومت کی سرمایہ دار نواز پالیسیوں نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ کھانے پینے کی اشیا اور خوردنی تیل کی قیمتیں پہلے ہی آسمان چھو رہی تھیں، اب کھانا خریدنے کے ساتھ ساتھ اسے پکانا بھی مہنگا ہو گیا ہے۔ اجولا اسکیم سے متعلق تیجسوی یادو نے مرکزی حکومت پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے اجولا اسکیم کی خوب تشہیر اور تعریف کی، لیکن کیا آج حکومت میں اتنی ہمت ہے کہ وہ گاؤں گاؤں جا کر اس اسکیم کا جائزہ لے اور ملک کو اس کی اصل حقیقت بتائے؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آج غریبوں کے گھروں میں خالی پڑے گیس سلنڈر حکومت کی اسکیموں کی حقیقت بیان کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :
تیجسوی یادو نے بی جے پی لیڈران کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 2014 میں 384 روپے کے رسوئی گیس سلنڈر کو لے کر احتجاج کرنے والے بی جے پی لیڈر آج سلنڈر کی قیمت تقریباً 1100 روپے ہونے کے باوجود اقتدار میں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقے کی جیب پر مسلسل بوجھ بڑھ رہا ہے۔ تیل، دال، چینی، آلو، پیاز، ٹماٹر اور رسوئی گیس کی بڑھتی قیمتوں نے عام آدمی کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ آر جے ڈی لیڈر نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت کی پالیسیوں کا فائدہ امیروں کو مل رہا ہے، جبکہ غریب اور عام آدمی کی زندگی مسلسل مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور بھوک مری کے خلاف آر جے ڈی کی جدوجہد سڑک سے لے کر ایوان تک جاری رہے گی۔