ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اللہ نہ کرے کوئی گولی چلے ، گوہر۔پنجاب میں 100 سے زائد پی ٹی آئی کارکنان نظر بند

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سخت اقدامات سے گریز کرے اور سیاسی مسائل کا سیاسی حل نکالا جائے۔

September 14, 2026 · اہم خبریں

بیرسٹر گوہر اور علامہ راجہ ناصر عباس اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔

بیرسٹر گوہر اور علامہ راجہ ناصر عباس اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔

 

تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو ملک بھر بالخصوص دارالحکومت کی طرف پُرامن ‘انصاف مارچ’ کرنے کا اعلان کر دیا ہے،دوسری جانب پنجاب میں کریک ڈاؤن کا سلسلہ بھی تیز ہو گیا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے مشترکہ طور پر کہا کہ پی ٹی آئی کا یہ احتجاج مکمل طور پر پُرامن ہوگا۔ بیرسٹر گوہر نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نہ کرے مارچ کے دوران کوئی گولی چلے، ہم نے ہمیشہ پُرامن رہنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور کارکنان کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ پُرامن رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور پارلیمنٹ سے بھی انصاف نہیں ملا، اس لیے اب عوام اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلیں گے۔

اس موقع پر اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے حکومتی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے اعلان کے بعد پنجاب میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن ہورہا ہے اور ہر طرف فاشزم کا راج ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کو معاشی اور سیاسی بحرانوں میں دھکیلا جا رہا ہے اور آئین و قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب پولیس ذرائع کے مطابق 27 ستمبر کے ممکنہ مارچ کے پیش نظر پنجاب حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے صوبے بھر سے پی ٹی آئی کے 100 سے زائد سرگرم کارکنان کو نظر بند کر دیا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹی کی سفارش پر مینٹیننس آف پبلک آرڈر (3 ایم پی او) کے تحت یہ گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں، جن کے تحت کارکنان کو 30 دن کے لیے اڈیالہ جیل میں نظر بند کیا گیا ہے۔

راولپنڈی ڈویژن سے مجموعی طور پر 106 کارکنان کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں راولپنڈی سے 31، اٹک سے 35، چکوال سے 23، جہلم سے 13 اور واہ کینٹ سے 4 کارکنان شامل ہیں۔ ادھر خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات اور دیگر رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کا مارچ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہو گا، تاہم حکومت کو محاذ آرائی کی بجائے سیاسی مفاہمت کا راستہ اپنانا چاہیے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں