سری نگر/ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ (H&UDD) کی کمشنر و سیکریٹری مندیپ کور نے سری نگر کو صاف ستھرا رکھنے اور کچرے کے بہتر انتظام کے لیے عوامی شمولیت میں اضافے پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ بہتر ویسٹ پروسیسنگ نظام کے ذریعے سری نگر آئندہ دو برسوں میں ملک کے تین صاف ترین شہروں میں جگہ بنا سکتا ہے۔
صفائی سے متعلق ایک بیداری پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مندیپ کور نے کہا کہ صفائی کے حوالے سے جتنی بھی بات کی جائے، جب تک ہر فرد اپنے گھر سے اس عمل کا آغاز نہیں کرتا، صورتحال میں خاطر خواہ تبدیلی ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت بنیادی ڈھانچے، گاڑیوں اور کچرے کی پروسیسنگ کی سہولیات پر ہزاروں کروڑ روپے خرچ کرسکتی ہے، تاہم جب تک لوگوں کی عادات تبدیل نہیں ہوتیں اور وہ اپنے گھروں اور آس پاس کے ماحول کو صاف رکھنے کی ذمہ داری خود قبول نہیں کرتے، یہ سرمایہ کاری مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتی۔
مندیپ کور نے بتایا کہ سری نگر میونسپل کارپوریشن میں تقریباً 3 ہزار سے 4 ہزار صفائی کارکن ہیں، جبکہ شہر کی آبادی تقریباً 16 سے 17 لاکھ ہے۔انہوں نے کہا کہ اتنی کم تعداد میں صفائی کارکن پورے شہر کے ہر فرد کو صفائی برقرار رکھنے پر مجبور نہیں کرسکتے، اس لیے شہریوں کو صرف میونسپل کارکنوں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے پلاسٹک کے استعمال میں کمی، گھروں میں کمپوسٹنگ کو فروغ دینے اور اسکولوں و گھروں میں ’’سوچھتا وارئیرز‘‘ تیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ کچرے اور آلودگی کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جاسکیں۔انہوں نے کہا کہ سیاحوں کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ جموں و کشمیر خوبصورت تو بہت ہے لیکن گندا ہے۔ ان کے مطابق قدرتی خوبصورتی کے ساتھ صفائی بھی انتہائی ضروری ہے۔
سری نگر کی صفائی کی درجہ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہر میں کچرے کی وصولی کا نظام مؤثر طریقے سے کام کر رہا ہے، تاہم کچرے کی پروسیسنگ ایک بڑا چیلنج رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب اس مسئلے کا حل تلاش کرلیا گیا ہے اور کچرے کی پروسیسنگ شروع ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ پہلے ہی تیار کیا گیا تھا، تاہم اس پر عمل درآمد میں تاخیر ہوئی۔
مندیپ کور نے بتایا کہ صفائی کے پیغام کو اسکول کے بچوں تک پہنچانے اور انہیں اپنے والدین کو گھروں سے باہر بھی صفائی برقرار رکھنے کی ترغیب دینے کے لیے جموں میں ’سوچھتا انٹرن شپ پروگرام‘ بطور پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صاف ستھرے سری نگر کا ہدف حاصل کرنے کے لیے شہریوں کی اجتماعی کوششوں کے ساتھ ساتھ کچرے کی مؤثر پروسیسنگ بھی انتہائی اہم ہوگی۔