محمد تسکین
بانہال/بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما اور جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف سنیل کمار شرما نے پیر کے روز ضلع رام بن کا دورہ کرتے ہوئے ہڑتال پر بیٹھے نیشنل ہیلتھ مشن (NHM) ملازمین اور ڈیلی ویجرز کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ملازمین کے دیرینہ مطالبات اور مسائل کو قانون ساز اسمبلی میں بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا۔ضلع رام بن میں این ایچ ایم ملازمین کی غیر معینہ مدت کی ہڑتال پیر کو مسلسل چھٹے روز میں داخل ہوگئی، جس کے باعث مختلف اسپتالوں، پرائمری ہیلتھ سینٹروں اور کمیونٹی ہیلتھ یونٹس میں طبی خدمات متاثر ہو رہی ہیں۔ ان مراکز میں این ایچ ایم کے تحت ڈاکٹر، نرسیں اور پیرا میڈیکل عملہ اپنی خدمات انجام دیتا ہے۔ہڑتال کے باعث معمول کی طبی سہولیات، بشمول او پی ڈی اور دیگر ضروری خدمات، خاص طور پر دیہی اور دور دراز علاقوں میں متاثر ہوئی ہیں جہاں بڑی تعداد میں مریض این ایچ ایم عملے پر انحصار کرتے ہیں۔
دورے کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے سنل شرما نے کہا کہ بی جے پی نے عام لوگوں اور ملازمین کے مسائل اجاگر کرنے کے لیے سیاسی رابطہ مہم شروع کی ہے، جس کا مقصد سیاسی وابستگی، مذہب یا ذات سے بالاتر ہو کر عوامی مسائل کو سامنے لانا ہے۔انہوں نے کہا کہ عام لوگوں کو اپنے جائز مسائل حکام تک پہنچانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے بی جے پی نے ان کی آواز بننے کا فیصلہ کیا ہے۔
شرما نے ہڑتال پر بیٹھے ملازمین کو یقین دلایا کہ پارٹی ان کے مطالبات، جن میں ملازمتوں کی مستقلی، ملازمت کا تحفظ اور اجرتوں میں نظرثانی شامل ہے، کو بھرپور طریقے سے آگے بڑھائے گی اور ان معاملات کو قانون ساز اسمبلی کے ایوان میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو معاملات مرکزی حکومت کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں، انہیں متعلقہ حکام کے سامنے بھی اٹھایا جائے گا۔ہڑتالی ملازمین مستقل ملازمت، مستقل محکمہ صحت کے ملازمین کے برابر تنخواہ، ملازمت کا تحفظ اور زیرِ التوا اعزازیہ و دیگر واجبات کی بروقت ادائیگی سمیت مختلف مطالبات کر رہے ہیں۔
بی جے پی رہنما نے ڈیلی ویجرز اور کنٹریکچول ملازمین کے مسائل پر انتظامیہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ طویل عرصے سے اپنے مطالبات کے حل کے منتظر ملازمین کی مشکلات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔