سری نگر/جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا سات روزہ خزاں اجلاس پیر کو شروع ہونے کے ساتھ ہی اپنی پارٹی نے سری نگر میں جموں و کشمیر اسمبلی کے باہر احتجاج کیا اور ریزرویشن پالیسی میں شفافیت اور اس پر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔اپنی پارٹی کے رہنما اشرف میر کی قیادت میں مظاہرین نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ ریزرویشن کے نظام کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل دی گئی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ کو عوام کے سامنے لانے میں ناکام رہی ہے۔ میر نے مطالبہ کیا کہ حکومت رپورٹ کو منظر عام پر لائے اور اسمبلی اور عوام کے سامنے پالیسی کی موجودہ صورت حال واضح کرے۔
میر نے احتجاج کے دوران کہاکہ ’’نوجوانوں کے ساتھ انصاف کیا جائے۔‘‘ انہوں نے ریزرویشن کے معاملے پر حکومت کی جانب سے بار بار دی جانے والی یقین دہانیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پہلے یقین دلایا تھا کہ چھ ماہ کے اندر ریزرویشن پالیسی کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
میر نے ریزرویشن کے مسئلے کو تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی تشویش سے جوڑا، خاص طور پر سری نگر میں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ڈگریاں رکھنے والے نوجوان روزگار کے محدود مواقع کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ منشیات کے استعمال اور روزگار کے مواقع کی کمی جیسے مسائل عوامی بے چینی میں اضافہ کر رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کے رہنما نے اسمبلی کی کارکردگی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ اجلاس عوام کو درپیش مسائل پر مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ارکان اسمبلی نے عوام کے اہم مسائل حل کرنے کے بجائے سیاسی محاذ آرائی میں کافی وقت صرف کیا۔
میر نے کہاکہ ’’لوگوں کو اسمبلی سے امیدیں وابستہ تھیں، لیکن کچھ بھی نہیں ہوا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ایوان کو عوامی شکایات کے ازالے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر کام کرنا چاہیے۔
یہ احتجاج خزاں اجلاس سے پہلے اور اس کے دوران ریزرویشن کے نظام پر بڑھتی ہوئی سیاسی توجہ کے درمیان ہوا ہے۔ پی ڈی پی کے رہنما وحید پارہ نے بھی موجودہ ریزرویشن نظام پر فوری بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے التوا کی تحریک پیش کی ہے۔ وحیدہ پارہ نے ریزرویشن پالیسی کو ناانصافی پر مبنی قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ جان بوجھ کر تاخیر کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے، جس نے جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو مشکل صورت حال سے دوچار کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوپن میرٹ کے طلبہ کے مستقبل کو مزید قربان نہیں کیا جاسکتا۔جموں و کشمیر اسمبلی کا خزاں اجلاس پیر کو شروع ہوا اور 21 سے 30 ستمبر کے درمیان اس کے سات اجلاس ہوں گے۔