سری نگر/جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ تقریباً دو سالہ دورِ اقتدار کے باوجود عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
جموں و کشمیر اسمبلی کے خزاں اجلاس کے پہلے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سنیل شرما نے کہا کہ عوام کو موجودہ حکومت سے بالخصوص ان لوگوں کو بہت زیادہ توقعات تھیں جو برسوں سے اپنے مسائل کے حل کے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دو سال گزرنے کے باوجود حکومت اور اس کے سربراہ کی جانب سے یہی کہا جا رہا ہے کہ ان کے پاس اختیارات نہیں ہیں اور وہ کچھ نہیں کر سکتے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت عوام کو مناسب بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کے مطابق کئی علاقوں میں بجلی کی مناسب فراہمی نہ ہونے کے باوجود بجلی کے نرخوں میں اضافہ کیا گیا، جبکہ پانی کی قلت اور فراہمی سے متعلق مسائل بھی بدستور موجود ہیں۔
سنیل شرما نے حکومت پر ہر محاذ پر انتظامی ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی عروج پر ہے۔ انہوں نے وزراء اور افسران پر بھی مبینہ طور پر بدعنوان سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے۔
قائد حزب اختلاف نے کہا کہ بی جے پی اسمبلی کے موجودہ اجلاس میں ڈیلی ویجرز، این ایچ ایم ملازمین، آشا اور آنگن واڑی ورکرز کے مسائل کے علاوہ جموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کے خواہشمند نوجوانوں کی جانب سے عمر میں رعایت کے مطالبے کو بھی اٹھائے گی۔انہوں نے ایس سی او ٹی بینک اور کوآپریٹو سٹیزن بینک سے وابستہ تقریباً 70 ہزار جمع کنندگان کا مسئلہ بھی اٹھایا اور کہا کہ یہ افراد اب بھی اپنی رقوم کی واپسی کے منتظر ہیں، حالانکہ پہلے ان کے واجبات دو ماہ کے اندر ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔
سنیل شرما نے بے روزگاری کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں سب سے بڑا دھوکہ نوجوانوں کے ساتھ ہوا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے ایک لاکھ سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کے وعدے پر بھی سوال اٹھایا۔
آؤٹ سورسنگ کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ نیشنل کانفرنس کے کارکنوں اور ان کے رشتہ داروں کو پیسوں کے عوض ملازمتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بی جے پی کو آؤٹ سورسنگ پر اعتراض نہیں، لیکن اس عمل کو مقررہ معیار اور شفاف بھرتی کے طریقہ کار کے تحت انجام دیا جانا چاہیے۔انہوں نے تقریباً 25 ہزار ملازمتوں کے معاملے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ اسامیاں پہلے ہی پُر کی جا چکی ہیں اور حکومت نے اسمبلی کو یہ بتا کر گمراہ کیا کہ تقرریاں خالی اسامیوں کے خلاف کی گئی ہیں۔
ریاستی حیثیت کی بحالی کے معاملے پر سنیل شرما نے کہا کہ اگر ہر مسئلے کی ذمہ داری ریاستی حیثیت نہ ہونے پر عائد کی جا رہی ہے تو موجودہ انتظامی ڈھانچے کو تحلیل کر کے حکومت کو ریاستی حیثیت کی بحالی کا انتظار کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی اسمبلی میں عوام کی آواز بلند کرے گی اور ان کے مسائل کو نظر انداز نہیں ہونے دے گی۔
جل جیون مشن (جے جے ایم) کی رپورٹ سے متعلق سوال پر سنیل شرما نے کہا کہ بی جے پی پہلے رپورٹ کا مطالعہ کرے گی اور اس کے بعد اس پر تفصیلی موقف پیش کرے گی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ جے جے ایم کی متعدد اسکیمیں غیر فعال ہوتی جا رہی ہیں اور رپورٹ میں بھی ’’بڑی خامیاں‘‘ موجود ہیں۔سنیل شرما نے کہا کہ جے جے ایم رپورٹ اسمبلی میں پیش کی جانی تھی، اس لیے اجلاس کے پہلے ہی روز اسے بحث کا مرکزی موضوع نہیں بننا چاہیے تھا۔