تاریخی سفارتی احتجاج، فلسطینی مشن کی اپیل پر ہال خالی کر دیا گیا، نیتن یاہو پیجر دکھاتے رہے
اقوام متحدہ میں اسرائیلی وزیراعظم کے خطاب پر 77 ممالک کے وفود کا واک آؤٹ
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اسرائیلی وزیراعظم کی تقریر کے موقع پر عالمی سطح پر شدید احتجاج ریکارڈ کیا گیا۔ خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کی تقریر کے آغاز پر مختلف ممالک کے وفود نے ہال سے واک آؤٹ کیا یا اجلاس میں شرکت سے گریز کیا۔
اس احتجاجی واک آؤٹ میں عرب ممالک سمیت ایشیا، افریقہ، یورپ اور لاطینی امریکا کے متعدد ممالک کے نمائندے شامل تھے۔ ترکیہ، ایران، پاکستان، ملائیشیا، بنگلہ دیش، شام، اردن، عراق، ازبکستان اور کرغزستان سمیت کئی اہم ممالک کے وفود نے خطاب شروع ہوتے ہی ہال چھوڑ دیا۔
ذرائع کے مطابق فلسطینی مشن کی جانب سے اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کے نمائندوں سے پرزور اپیل کی گئی تھی کہ وہ اس خطاب کے دوران اجتماعی طور پر ہال سے باہر نکل آئیں۔ یہ پُرڈھنگ احتجاج غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور مشرق وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی سنگین صورتحال پر عالمی سطح پر موجود شدید سفارتی اختلافات اور بے چینی کی واضح عکاسی کرتا ہے۔
جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران نیتن یاہو نے پیجر دکھا کر کر حزب اللہ پر حملوں کا بلواسطہ اعتراف کر لیا۔ انہوں نے اسٹار لنک کی ڈیوائس بھی دکھائی جو ایران میں حکومت مخالفین کو فراہم کی گئی ہے۔