ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ریاستی درجہ پر بحث کے لیے تیار، مگر دفعہ 370 اور خودمختاری پر بحث نہیں ہونے دیں گے: سنیل شرما

سری نگر/جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی پر بحث کے لیے تیار ہے، تاہم دفعہ 370 یا سال 2000 کی خودمختاری کی قرارداد پر بحث کی اجازت نہیں دی جائے گی۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے شرما نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کو ’’متنازع اور اختلافی‘‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق نئی قرارداد میں سال 2000 کی خودمختاری کی قرارداد کو دوبارہ شامل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
شرما نے کہا کہ بی جے پی نے اس وقت خودمختاری کی قرارداد کو مسترد کر دیا تھا اور اسے پھاڑ دیا تھا، تو پھر آج کی قرارداد میں اسی معاملے کو دوبارہ کیوں زیر بحث لایا جا رہا ہے۔قائد حزب اختلاف نے کانگریس کے مؤقف پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پارٹی واضح کرے کہ وہ خودمختاری کی قرارداد اور دفعہ 370 کے معاملے پر کہاں کھڑی ہے اور آیا وہ قرارداد کے ساتھ ہے یا حکومت کے ساتھ۔
انہوں نے عمر عبداللہ کے سیاسی مؤقف پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ جب بی جے پی نے خودمختاری کی قرارداد کو مسترد کیا تھا، اُس وقت عمر عبداللہ مرکز میں اُس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت میں وزیر تھے۔ شرما نے سوال کیا کہ کیا عمر عبداللہ اس وقت این ڈی اے کے اتحادی نہیں رہے تھے؟
شرما نے الزام عائد کیا کہ حکومت ریاستی حیثیت کے معاملے کو حکمرانی سے متعلق مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بی جے پی ریاستی حیثیت کی بحالی پر بحث کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا، ’’اگر آپ ریاستی حیثیت پر بحث کرنا چاہتے ہیں تو ہم چیلنج کرتے ہیں، ہم بحث کے لیے تیار ہیں۔ لیکن آپ ریاستی حیثیت کے نام پر کشمیر کے لوگوں کو بیوقوف بنانا چاہتے ہیں۔‘‘
قائد حزب اختلاف نے مزید الزام لگایا کہ حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے اور ریاستی حیثیت کی بحالی کے معاملے کو طول دینے کے لیے اس مسئلے کو استعمال کر رہی ہے۔
شرما نے کہا کہ بی جے پی مذکورہ قرارداد کو مسترد کرتی ہے اور دفعہ 370 اور خودمختاری سے متعلق قرارداد پر بحث کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی جانب سے دفعہ 370 اور خودمختاری کی قرارداد پر اپنا مؤقف واضح کیے جانے اور حکومت کی جانب سے سوالات کے جواب دیے جانے تک بی جے پی کا احتجاج جاری رہے گا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں