سری نگر/جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں بدھ کے روز اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کے بل کی واپسی کے معاملے پر نیشنل کانفرنس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی این سی کے رکن اسمبلی الطاف کلو نے کچھ کاغذات لہراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان پر بی جے پی کے بعض ارکان اسمبلی کے دستخط موجود ہیں اور وہ تنخواہوں میں اضافے کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں۔
اس پر بی جے پی کے رکن اسمبلی شام لال شرما نے انہیں معاملے پر سیاست کرنے سے گریز کرنے کو کہا۔شام لال شرما نے کہا، ’’ایوان کے اندر اس معاملے پر سیاست نہ کریں۔‘‘انہوں نے کہا کہ حکومت کو اراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے پر توجہ دینے سے پہلے ڈیلی ویجرز، آنگن واڑی کارکنوں اور دیگر عارضی ملازمین کے مسائل حل کرنے چاہئیں۔
شرما نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب مختلف زمروں سے تعلق رکھنے والے ملازمین مستقل کیے جانے اور دیگر مراعات کے منتظر ہیں تو ایسے میں قانون سازوں کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کرنے کا کیا جواز ہے۔
گرما گرم بحث کے دوران انہوں نے کہا، ’’اگر آپ یہاں صرف تنخواہ کے لیے آئے ہیں تو کوئی نجی ملازمت کر لیں۔‘‘اس معاملے پر ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن بنچوں کے درمیان کافی دیر تک گرما گرم بحث جاری رہی۔