نئی دہلی: دیوالی سے قبل پٹاخوں کے استعمال سے متعلق معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ پورے ملک میں پٹاخوں پر مکمل پابندی عائد کرنے کے بجائے مذہبی جذبات اور صحت و ماحول سے متعلق خدشات کے درمیان توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایسا حل تلاش کیا جائے گا جس میں مذہبی جذبات کا بھی احترام ہو اور لوگوں کی صحت و ماحول کو بھی تحفظ حاصل ہو۔
سماعت کے دوران جسٹس ایم ایم سندریش نے کہا کہ پورے ملک میں پٹاخوں پر مکمل پابندی سے کچھ لوگوں کے مذہبی جذبات متاثر ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالت مکمل پابندی کے حق میں نہیں ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی کہیں بھی 24 گھنٹے پٹاخے چلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ اس سے بیمار افراد، بزرگوں اور بچوں کی صحت متاثر ہوتی ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ ایسا متوازن حل تلاش کرنے کی کوشش کرے گا جو تمام متعلقہ پہلوؤں کو مدنظر رکھے۔ عدالت کے مطابق پٹاخے چلانے کے لیے مخصوص اوقات مقرر کیے جا سکتے ہیں اور یہ بھی طے کیا جائے گا کہ کس نوعیت کے پٹاخوں کے استعمال کی اجازت ہوگی اور کن پٹاخوں پر پابندی برقرار رہے گی۔
عدالت نے اس معاملے میں مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) اور مرکزی حکومت کو پٹاخوں میں بیریم کی موجودگی سے متعلق مزید جانچ کے لیے وقت دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ پٹاخوں کے مشترکہ فائر ٹیسٹ بھی کیے جائیں، تاکہ ان سے پیدا ہونے والے شور کی سطح یعنی ڈیسیبل کی درست پیمائش کی جا سکے۔
سپریم کورٹ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پٹاخوں سے پیدا ہونے والے شور اور آلودگی کے انسانی صحت پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ ٹیسٹ کے نتائج سے یہ طے کرنے میں مدد ملے گی کہ کن پٹاخوں کے استعمال کی اجازت دی جا سکتی ہے اور کن کے استعمال پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔
عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت 15 اکتوبر کو مقرر کی ہے۔ اس وقت تک سی پی سی بی اور مرکزی حکومت کو اپنی رپورٹ اور کیے گئے ٹیسٹ کے نتائج عدالت کے سامنے پیش کرنے ہوں گے۔
دیوالی کے دوران دہلی اور قومی راجدھانی خطے میں فضائی آلودگی کا مسئلہ ہر سال شدت اختیار کرتا ہے۔ پٹاخوں کے استعمال سے ہونے والی آلودگی کے باعث ان پر پابندی یا سخت پابندیوں کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب پٹاخوں کے استعمال کو مذہبی اور ثقافتی روایات سے جوڑتے ہوئے مکمل پابندی کی مخالفت بھی سامنے آتی رہی ہے۔ سپریم کورٹ کی تازہ سماعت میں اسی تنازع کے دونوں پہلوؤں کے درمیان توازن قائم کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔