دہلی ہائی کورٹ نے بدھ (30 ستمبر) کو عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت عرضی خارج کر دی ہے۔ عدالت نے فروری 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کے مبینہ سازش سے جڑے معاملے میں دونوں کی ضمانت عرضی تیسری بار خارج کر دی۔ یہ معاملہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون یعنی یو اے پی اے کے تحت درج ہے۔ جسٹس پرتیبھا ایم سنگھ اور جسٹس دنیش بھٹ کی بنچ نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے 5 جنوری کے حکم میں عائد کی گئی شرائط کو بدل نہیں سکتی۔ سپریم کورٹ نے دونوں ملزمان کو ہدایت دی تھی کہ وہ محفوظ گواہوں کی گواہی مکمل ہونے کے بعد یا حکم کی تاریخ سے ایک سال مکمل ہونے پر جو پہلے ہو اس کے بعد ضمانت کی درخواست کر سکتے ہیں۔
دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ وہ عدالتی نظم و ضبط کا پابند ہے اور سپریم کورٹ کی جانب سے عمر خالد اور شرجیل امام کے لیے طے کردہ شرائط میں تبدیلی نہیں کر سکتا۔ اسی بنیاد پر دونوں کی ضمانت عرضی تیسری بار خارج کر دی گئی۔ دونوں پر فروری 2020 میں ہوئے شمال مشرقی دہلی فسادات کی مبینہ بڑی سازش میں شامل ہونے کا الزام ہے۔ دہلی پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ دونوں فسادات کے ماسٹر مائنڈ افراد میں شامل تھے۔ ان فسادات میں 53 لوگوں کی موت ہوئی تھی اور 700 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں اس وقت تشدد ہوا تھا جب شہریت ترمیمی قانون یعنی سی اے اے اور قومی شہری رجسٹر یعنی این آر سی کے خلاف احتجاج چل رہے تھے۔ اس مبینہ بڑی سازش کے کیس کی جانچ دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے کی تھی۔ اس معاملے میں سماجی کارکن خالد سیفی اور سابق عآپ کونسلر طاہر حسین سمیت کئی دیگر لوگوں کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔ دہلی پولیس نے ضمانت عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے عمر خالد اور شرجیل امام کو فسادات کا ماسٹر مائنڈ بتایا ہے۔ شرجیل امام کو اس معاملے میں 25 اگست 2020 کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ عمر خالد کی گرفتاری 13 ستمبر 2020 کو ہوئی تھی۔ ٹرائل کورٹ نے دونوں کی ضمانت عرضی تیسری بار 4 جولائی کو خارج کی تھی، جس کے بعد دونوں نے ہائی کورٹ کا رخ کیا تھا۔