ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

تنویر صادق کی پی ڈی پی کو تنبیہ،کہا’ہمارے رہنماؤں کو ہراساں کیا تو جواب دینا جانتے ہیں‘

سرینگر/نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور ایم ایل اے تنویر صادق نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی پر سیاسی اتحاد کے معاملے میں دوہرے معیار اپنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیوروکریسی کی مبینہ مداخلت جموں و کشمیر کی منتخب حکومت کے کام میں رکاوٹ بن رہی ہے۔سرینگر میں منعقدہ ’’ہلا بول‘‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے تنویر صادق نے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے جموں و کشمیر کے مسائل کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر اٹھانے کے موقف پر سوال اٹھایا اور ان کے بیانات اور عملی اقدامات میں تضاد کا الزام عائد کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی بیان پر معذرت کرنی ہے تو صاف الفاظ میں معذرت کی جائے اور بہانے بنا کر معذرت نہ کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی وضاحتیں جموں و کشمیر کے لوگوں کو ہراساں کرنے والوں کو مزید موقع فراہم کرتی ہیں۔
تنویر صادق نے محبوبہ مفتی کے سیاسی اتحاد کے مطالبے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر مقصد اگست 2019 کے بعد کی صورتحال کو تبدیل کرنا ہے تو پھر اس اتحاد کا کیا فائدہ ہوگا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’ہمیں اس صورتحال تک کون لایا؟ محبوبہ مفتی نے۔‘‘
منتخب حکومت کے کام میں مبینہ بیوروکریٹک مداخلت کا ذکر کرتے ہوئے تنویر صادق نے کہا کہ بیوروکریٹس کہیں اور سے ہدایات لے رہے ہیں اور اگر بیوروکریسی منتخب حکومت کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے لگے تو یہ انتہائی خراب نظیر قائم ہوگی۔انہوں نے کہا، ’’ہم سب جانتے ہیں کہ بیوروکریسی کو ہدایات کہاں سے مل رہی ہیں، لیکن اگر بیوروکریسی ہی فیصلے کرے گی تو یہ نہ صرف یہاں بلکہ پورے ملک میں منتخب حکومت کے لیے ایک بہت بری نظیر ہوگی۔‘‘
تنویر صادق نے الزام لگایا کہ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے اقدامات میں جان بوجھ کر رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ اسی مقصد کے تحت کیا گیا ہے کہ منتخب حکومت کو مزید بااختیار بنایا جائے اور وہ مؤثر طریقے سے کام کر سکے۔ ان کے مطابق اسی لیے ریاستی درجے کی بحالی سے متعلق قرارداد پیش کی گئی تھی جس کی بی جے پی نے مخالفت کی۔تنویر صادق نے کہا کہ جموں و کشمیر کی جغرافیائی اور سلامتی کی صورتحال دیگر ریاستوں سے مختلف ہے اور یہاں منتخب حکومت کو بااختیار بنانا انتہائی ضروری ہے۔
پی ڈی پی پر نیشنل کانفرنس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے تنویر صادق نے خبردار کیا کہ اگر یہی طرزِ سیاست جاری رہا تو نیشنل کانفرنس بھی جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا، ’’اگر آپ یہ روایت قائم کرنا چاہتے ہیں تو ایک بات یاد رکھیں، جہاں بھی آپ کے رہنما جائیں گے، ہم اپنے لوگوں کو وہاں بھیجیں گے اور انہیں اس طرح ہراساں کروائیں گے کہ وہ دوبارہ سامنے آنے کے قابل نہیں رہیں گے۔‘‘انہوں نے کہا کہ کسی بزرگ سیاسی رہنما سے اس انداز میں پوچھ گچھ کرنا جمہوری اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔تنویر صادق نے پی ڈی پی سے اپیل کی کہ وہ نیشنل کانفرنس کو سیاسی محاذ آرائی کی اس سطح تک نہ لے جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس بھی سیاست کو اسی سطح تک لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری کی جانب سے مسٹر چاولہ سے متعلق تعمیراتی معاملے پر لگائے گئے الزامات کا جواب دیتے ہوئے تنویر صادق نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے میں اپنی پارٹی سے وابستہ کوئی شخص بھی منسلک ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے کسی کو بھی سرکاری اراضی یا جائیداد نہیں دی اور محکمہ سیاحت نے بھی اس نوعیت کی کسی زمین کو ڈی نوٹیفائی نہیں کیا ہے۔
تنویر صادق نے کہا کہ متعلقہ مشیر پہلے ہی اس معاملے کی وضاحت کر چکے ہیں۔ انہوں نے الزام کی حقیقت ثابت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی بے ضابطگی ہوئی ہے تو اس کے ثبوت سامنے لائے جائیں۔انہوں نے کہا، ’’اگر اس میں کوئی حقیقت ہے تو سامنے آئیں اور بتائیں کہ ہم سے کہاں غلطی ہوئی ہے۔‘

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں