ایم شفیع میر
گول/ضلع رام بن کے سب ڈویژن گول میں سنگلدان ریلوے اسٹیشن سے محض چھ کلومیٹر کی دوری پر واقع قدرتی گرم چشمہ ’’تتہ پانی‘‘ آج بھی اپنی شفابخش خصوصیات اور قدرتی حسن کے باعث کشمیر سمیت جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع سے آنے والے سیاحوں اور لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ مختلف بیماریوں اور جسمانی دردوں سے نجات کی امید لیے بڑی تعداد میں لوگ اس مقام کا رخ کر رہے ہیں، تاہم بڑھتی ہوئی سیاحتی سرگرمیوں کے باوجود تتہ پانی بنیادی سہولیات اور سرکاری توجہ سے محروم ہے۔
مقامی لوگوں اور یہاں آنے والے سیاحوں کے مطابق گرم چشمے میں نہانے کے بعد انہیں جسمانی دردوں میں افاقہ اور سکون محسوس ہوتا ہے، جس کے باعث اس مقام کی مقبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ خصوصاً موجودہ موسم میں کشمیر اور دیگر اضلاع سے بڑی تعداد میں لوگ تتہ پانی پہنچ رہے ہیں، لیکن سیاحوں کی بڑھتی تعداد کے مقابلے میں یہاں سرکاری سطح پر رہائش، صفائی، بیت الخلاء،ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی سہولیات کا مناسب انتظام موجود نہیں ہے۔
سیاحوں کا کہنا ہے کہ قدرت نے ’’تتہ پانی ‘‘کو ایک منفرد نعمت سے نوازا ہے، لیکن مناسب منصوبہ بندی اور سرکاری سرپرستی نہ ہونے کے باعث یہ مقام اپنی حقیقی سیاحتی صلاحیت کے مطابق ترقی نہیں کر پا رہا۔ ان کے مطابق یہاں آنے والے لوگوں کو رہائش کے لیے نجی ٹین شیڈز اور عارضی ٹینٹوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جہاں مبینہ طور پر ایک رات کے قیام کے لیے ہزاروں روپے وصول کیے جاتے ہیں۔
سیاحوں نے شکایت کی کہ بعض دکانداروں، ٹین شیڈ اور ٹینٹ مالکان کے ساتھ ساتھ بعض ڈرائیوروں کی جانب سے بھی سیاحوں سے زیادہ رقم وصول کرنے کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کی جانب سے یہاں مناسب سرائے، معیاری رہائشی سہولیات اور دیگر بنیادی ڈھانچہ قائم کیا جائے تو سیاحوں کو غیر ضروری اخراجات سے نجات مل سکتی ہے اور اس پورے علاقے میں ایک منظم سیاحتی ماحول بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔
کشمیر سے آئے ایک بزرگ سیاح نے بتایا کہ وہ 1980 کی دہائی سے تتہ پانی آ رہے ہیں، لیکن کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود انہیں اس مقام پر سرکاری سطح پر کوئی خاطر خواہ ترقی دکھائی نہیں دی۔انہوں نے کہا کہ تتہ پانی کی طبی اور قدرتی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اسے ایک منظم سیاحتی مرکز کے طور پر ترقی دی جانی چاہیے تھی، مگر افسوس کہ آج بھی یہاں آنے والے لوگوں کو بنیادی سہولیات کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بزرگ سیاح کا کہنا تھا کہ اگر کشمیر کے کسی حصے میں طبی اور قدرتی اعتبار سے اتنی اہمیت رکھنے والا گرم چشمہ موجود ہوتا تو شاید اسے عالمی سطح کے سیاحتی مرکز کے طور پر ترقی دی گئی ہوتی۔ ان کے مطابق وادی گول میں واقع اِس شفا بخش مقام ’’تتہ پانی ‘‘میں بھی ایسی ہی صلاحیت موجود ہے، لیکن اس مقام کی قدر و قیمت کو سمجھتے ہوئے طویل المدتی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت تتہ پانی کی طرف سنجیدہ توجہ دے، یہاں بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرے اور سیاحتی سہولیات کو منظم کرے تو اس سے نہ صرف مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ گول اور رام بن کی مقامی معیشت کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔
سیاحوں کا کہنا ہے کہ سنگلدان ریلوے اسٹیشن سے نزدیک ہونے کی وجہ سے تتہ پانی تک رسائی پہلے کے مقابلے میں آسان ہوئی ہے، جس کے باعث مستقبل میں یہاں سیاحوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامیہ پہلے سے منصوبہ بندی کرتے ہوئے مناسب رہائش، صاف ستھرے بیت الخلاء، پینے کے پانی، صفائی، سڑک رابطے اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کرے۔
مقامی لوگوں اور سیاحوں نے حکومت اور متعلقہ محکمہ سیاحت سے مطالبہ کیا ہے کہ تتہ پانی کو محض ایک قدرتی گرم چشمے کے طور پر نظر انداز کرنے کے بجائے اسے باقاعدہ سیاحتی مقام کے طور پر ترقی دی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس مقام کو منصوبہ بند طریقے سے سجایا اور سنوارا جائے تو یہ خطے کے اہم سیاحتی مراکز میں شامل ہو سکتا ہے، جس سے مقامی آبادی کو معاشی فائدہ پہنچنے کے ساتھ ساتھ سرکار کو بھی مستقل آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔