ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پھانسی سے چند گھنٹے پہلے سزائے موت کے قیدی نے شادی کر لی، ’’حق مہر‘‘ منفرد طے ہوا

(9 اکتوبر 2026): سزائے موت کے قیدی نے پھانسی دیے جانے سے چند گھنٹے پہلے شادی کر لی جس کا حق مہر منفرد طے کیا گیا۔

آپ نے اب تک جیلوں میں قید کی سزا کاٹنے والے قیدیوں کی شادیوں کا سنا اور پڑھا ہوگا لیکن ایک سزائے موت کے منتظر قیدی نے پھاننسی دیے جانے سے چند گھنٹے قبل شادی کی اور منفرد مہر پیش کیا۔

عرب میڈیا کے مطابق یہ شادی ایران کے شہر اصفہان کی جیل میں ہوئی جہاں مظاہروں کے باعث گرفتار ایرانی شہری علی رضا سیباہی نے پھانسی دیے جانے سے چند گھنٹے قبل اپنی ساتھی سے شادی کر لی۔

علی رضا سپاہیعلی رضا سپاہی

اس شادی کے لیے منفرد حق مہر طے کیا گیا۔ حق مہر میں قرآن مجید کا نسخہ، شکر کا ٹکڑا اور سرخ گلاب دلہن کو دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق قیدی علی رضا سیباہی نے تختہ دار پر جانے سے چند گھنٹے قبل اپنے وکیل کے ذریعے فون پر دوسری جیل میں قید اپنی ساتھی سے شادی کی خواہش پوری کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 21 سالہ علی رضا نے 22 سالہ مہشاد کاشائی سے نکاح کیا۔

مہشاد کاشانیمہشاد کاشانی

ان کے وکیل نے اصفہان میں ہی لیکن دوسری جیل میں قید کاشانی کے ساتھ ان کی پھانسی سے پہلے تقریب منعقد کرنے کے لیے ایک آڈیو کال کا انتظام کیا۔ ٹیلی فون پر یہ شادی ان دونوں کے والدین کی منظوری حاصل کرنے کے بعد کی گئی۔

وکیل نے والدین سے پوچھا "کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں” کہ "قرآن مجید کے ایک نسخے، شکر کے ایک ٹکڑے اور ایک سرخ گلاب” پر مشتمل حقِ مہر کے ساتھ شادی مکمل کی جائے تو دونوں نے "ہاں” میں جواب دیا۔

واضح رہے کہ نکاح کی یہ رسم 4 اور 5 اکتوبر کی درمیان شب ادا کی گئی اور اس کے چند گھنٹے بعد پیر 5 اکتوبر کی علی الصباح نوبیاہتا دولہے کو پھانسی دے دی گئی۔

علی رضا پر رواں برس 8 جنوری کو ہونے والے پر تشدد مظاہروں میں شرکت کا الزام تھا، جس میں حکام کے مطابق چار پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔

عدالت نے نوجوان کو ایک مسلح گروہ سے تعلق اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے الزام میں مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں