سری نگر/جموں و کشمیر حکومت آئندہ چار ماہ کے اندر نئی میڈیا پالیسی مرتب کرے گی، جس کا مقصد ذرائع ابلاغ کے شعبے میں جوابدہی اور نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہے۔ اس بات کا اظہار وزیر سکینہ ایتو نے ہفتہ کے روز کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے سرگرم غیر پیشہ ور افراد کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر تشویش ظاہر کی۔
کولگام میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئےسکینہ ایتو نے کہا کہ حکومت نے نئی میڈیا پالیسی متعارف کرانے کے اپنے فیصلے سے پہلے ہی قانون ساز اسمبلی کو آگاہ کیا ہے۔ مجوزہ پالیسی کے تحت غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ سے متعلق خدشات کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ صحافت کے کردار کو بھی تسلیم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ میڈیا عوام اور حکومت کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ کہنا درست نہیں کہ میڈیا سے وابستہ ہر شخص غلط ہے۔ ان کے مطابق، صحافت کے شعبے میں بہت سے تعلیم یافتہ، ذمہ دار اور پیشہ ور صحافی موجود ہیں، جو پوری لگن کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
وزیر نے تاہم فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے سرگرم غیر پیشہ ور افراد کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی صحافتی صلاحیتوں اور جوابدہی کے حوالے سے سوالات اٹھتے ہیں۔سکینہ ایتو نے کہا کہ قانون ساز اسمبلی میں محکمہ اطلاعات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں حکومت نے واضح کیا تھا کہ نئی میڈیا پالیسی لائی جا رہی ہے اور اسے چار ماہ کے اندر مرتب کیا جائے گا۔انہوں نے زور دیا کہ مجوزہ پالیسی کے ذریعے میڈیا کے شعبے میں نظم و ضبط اور جوابدہی کو یقینی بنایا جانا چاہیے، بالخصوص ایسے معاملات میں جہاں سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے بغیر ثبوت الزامات عائد کیے جاتے ہیں یا کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔
وزیر نے کہا کہ حکومت یا عوامی نمائندوں پر تنقید کرنے کی آزادی کا مطلب غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے یا کسی کی ذاتی عزت و وقار کو مجروح کرنے کی آزادی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ صحت مند تنقید کا خیرمقدم کیا جاتا ہے اور حکومت اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم کسی کی عزت یا ساکھ کو بلاوجہ نقصان پہنچانا درست نہیں۔ ایسے اقدامات کے لیے جوابدہی ضروری ہے۔
سکینہ ایتو نے کہا کہ پیشہ ورانہ صحافت عوام اور حکومت کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ میڈیا کی ساکھ کو متاثر کرنے والے غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل سے نمٹنے کے لیے نئی میڈیا پالیسی مقررہ چار ماہ کی مدت میں مرتب کی جائے گی۔