ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اکھلیش یادو کا بی جے پی پر طنز، ’ون نیشن، ون الیکشن‘ نہیں، ’ون کرپشن، ون الیکشن‘ ہے منشا

لکھنؤ: سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے اتر پردیش میں ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے عمل کو لے کر بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر نشانہ لگایا ہے۔ انہوں نے بی جے پی کے ’ون نیشن، ون الیکشن‘ کے تصور پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اس کی منشا ’ون کرپشن، ون الیکشن‘ جیسی ہے۔ اکھلیش نے دعویٰ کیا کہ مہنگائی اور بدعنوانی سے متوسط طبقہ پریشان ہے، جب کہ نوجوانوں اور خواتین میں بھی حکومت کے تئیں ناراضگی بڑھ رہی ہے۔

لکھنؤ میں سماجوادی پارٹی کے دفتر میں جمعہ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی مختصر نظرثانی (ایس ایس آر) کا الٹا آر ایس ایس ہوتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی، الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر ووٹر لسٹ میں گڑبڑی کی سازش کر رہی ہے، کیونکہ اسے براہ راست مقابلے میں شکست کا اندیشہ ہے۔

اکھلیش نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے خلاف نہیں، بلکہ اس عمل میں بے ضابطگیوں کی مخالفت کر رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ایس ایس آر کرایا جا رہا ہے تو خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے اور حذف کرنے کا عمل ایک ہی نظرثانی کے دوران شفاف طریقے سے مکمل کیا جائے اور اس کے بعد دوبارہ ایسی کارروائی نہ ہو۔

سماجوادی پارٹی کے صدر نے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی نے اتر پردیش کی 100 اسمبلی نشستوں سے متعلق اعداد و شمار جمع کر کے الیکشن کمیشن کو سونپے ہیں۔ ان کے مطابق، ان اعداد و شمار میں ایک ہی نوجوان کے نام پر مختلف مقامات پر ووٹر شناخت درج ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ نوجوان پہلی بار ووٹ ڈالنے والا ہے اور تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ ایک شخص ایک ہی مقام پر ووٹ ڈال سکتا ہے، لیکن اس کے نام کی کئی جگہ اندراج سے دوسرے لوگوں کے ووٹ ڈالنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔

اکھلیش نے اسے چھوٹی موٹی غلطی ماننے سے انکار کرتے ہوئے ’کھوٹی غلطی‘ قرار دیا اور الیکشن کمیشن سے جواب طلب کیا۔ انہوں نے ایس آئی آر کے دوران بوتھ لیول افسران (بی ایل او) کی اموات کا معاملہ بھی اٹھایا اور دعویٰ کیا کہ اس عمل میں 20 بی ایل او کی جان گئی تھی۔ انہوں نے سوال کیا کہ ووٹر لسٹ سے متعلق سنگین شکایات پر ذمہ داری کیوں طے نہیں کی جاتی؟

اکھلیش نے الزام لگایا کہ ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے پیچھے بی جے پی کا سیاسی مقصد ہے۔ انہوں نے چندے اور مذہبی مقامات پر چڑھاوے کی چوری کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس سے سناتنی ووٹر بھی بی جے پی سے ناراض ہیں۔ نیٹ جیسے امتحانات میں بے ضابطگیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کا اعتماد متاثر ہوا ہے۔ ان کے مطابق، جین زی، جین الفا اور سرکاری اسکیموں کے مستفیدین میں بھی بی جے پی کے خلاف ناراضگی بڑھ رہی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں