نئی دہلی: بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر عمر کی بنیاد پر پابندی اور آن لائن تحفظ کے لیے جامع ضابطہ بنانے کی درخواست پر سپریم کورٹ نے جمعہ کو مرکزی حکومت اور قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال (این سی پی سی آر) کو نوٹس جاری کیا۔ عدالت نے متعلقہ فریقوں سے جواب طلب کرتے ہوئے معاملے کی اگلی سماعت 7 دسمبر کے لیے مقرر کی۔
یہ عرضی اندور کے ایمرلڈ ہائٹس انٹرنیشنل اسکول اور اس کے ڈائریکٹر اکیڈمکس سدھارتھ سنگھ گرنار نے دائر کی ہے۔ بنچ نے معاملے پر نوٹس لیا۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے کہا ہے کہ مرکز بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر قابلِ نفاذ قومی پالیسی بنائے، جس میں عمروں کے مطابق رسائی اور پلیٹ فارموں کی ذمہ داریاں واضح ہوں۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ بچوں کو ایسے آن لائن ماحول سے محفوظ رکھنا جو ان کی صحت، وقار اور نشوونما کو نقصان پہنچا سکتا ہے، حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ یہ بوجھ صرف والدین کی نگرانی یا ٹیکنالوجی کمپنیوں کے رضاکارانہ حفاظتی اقدامات پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اگر جامع نظام نافذ نہ ہو تو ایک مقررہ عمر سے کم بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی بھی زیر غور آنی چاہیے۔
درخواست میں عمر کی تصدیق، عمر کے مطابق مواد، والدین کی تصدیق شدہ رضامندی اور بچوں کے ذاتی و رویہ جاتی ڈیٹا کا تحفظ تجویز کیا گیا ہے۔ اس میں ایسے پلیٹ فارم ڈیزائن پر بھی تشویش ہے جو بچوں کو مسلسل نوٹیفکیشن اور خودکار تجاویز کے ذریعے زیادہ دیر آن لائن رکھتے ہیں۔ درخواست گزاروں کے مطابق ان اثرات کا علم والدین یا اساتذہ کو کئی بار دیر سے ہوتا ہے۔
عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کا بے قابو استعمال بچوں میں افسردگی، بے چینی، گھبراہٹ، جذباتی دباؤ اور خود اعتمادی میں کمی سے جڑ سکتا ہے۔ سائبر بُلنگ، نامناسب مواد، آن لائن استحصال، نیند اور جسمانی سرگرمی میں خلل بھی خدشات میں شامل ہیں۔ بچوں کے رویہ جاتی ڈیٹا کا جمع ہونا رازداری کے خدشات بھی بڑھاتا ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ الگورتھم پر مبنی مواد بچوں کو نقصان دہ تجربات تک پہنچا سکتا ہے۔
عدالت کا نوٹس جاری کرنا درخواست پر حتمی فیصلہ یا بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد ہونا نہیں ہے۔ اس سے عرضی میں بیان کردہ دعوے عدالتی طور پر ثابت بھی نہیں ہوتے۔ اب مرکز اور متعلقہ اداروں کے جوابات کے بعد عدالت اس معاملے پر مزید سماعت کرے گی۔ مقدمے میں بحث عمر کی حد، والدین کے اختیار، بچوں کے حقوق اور آن لائن پلیٹ فارموں کی جواب دہی کے درمیان توازن پر مرکوز رہنے کا امکان ہے۔