ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

خاتون افسر سے مبینہ بدزبانی پر آئی اے ایس افسر راجیو رنجن تنازعے میں، جے کے اے ایس برادری کا غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ

سری نگر/جموں و کشمیر میں سینئر آئی اے ایس افسر کمار راجیو رنجن ایک خاتون جے کے اے ایس افسر کے ساتھ مبینہ طور پر نازیبا زبان استعمال کرنے اور انہیں ملازمت سے برطرف کرانے کی سفارش کرنے کی دھمکی دینے کے معاملے پر تنازعے میں گھر گئے ہیں۔ اس واقعے کی مبینہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد جموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس (جے کے اے ایس) برادری نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ مشن یووا سے متعلق جائزہ اجلاس کے دوران پیش آیا، جہاں راجیو رنجن اور گاندربل کے ایمپلائمنٹ اینڈ کاؤنسلنگ سینٹر کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر بینش وانی کے درمیان نیشنل رورل لائیولی ہڈ مشن (این آر ایل ایم) کے کردار پر بحث ہوئی۔
راجیو رنجن، جو جموں و کشمیر حکومت میں محکمہ محنت و روزگار کے انتظامی سیکریٹری کے عہدے پر تعینات ہیں، اجلاس کے دوران بینش وانی کی بات بار بار کاٹتے رہے۔ خاتون افسر ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اجلاس میں شریک تھیں اور اپنے دفتر کی جانب سے مقررہ اہداف کے حصول سے متعلق تفصیلات پیش کر رہی تھیں۔
مبینہ ویڈیو کے مطابق راجیو رنجن نے سوال اٹھایا کہ جب یہ کام این آر ایل ایم نے کرنا تھا تو اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو ذمہ داری کیوں دی گئی۔ اس پر بینش وانی نے وضاحت کرنے کی کوشش کی کہ این آر ایل ایم کو معاون ادارے کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔
الزام ہے کہ اس دوران سینئر افسر نے خاتون افسر پر بار بار چیختے ہوئے انہیں خاموش رہنے کو کہا اور نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ جب بینش وانی نے اعتراض کیا کہ انہیں اس طرح مخاطب نہیں کیا جا سکتا تو راجیو رنجن نے مبینہ طور پر اپنے کمرے میں موجود ایک دوسری خاتون افسر سے ان کی معطلی کا حکم نامہ تیار کرنے کو کہا۔
رپورٹ کے مطابق راجیو رنجن نے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (جی اے ڈی) کو خط لکھ کر بینش وانی کو ملازمت سے برطرف کرنے کی سفارش کرنے کی بات بھی کہی۔ اس دوران دونوں افسران کے درمیان تلخ کلامی جاری رہی۔تاہم، اس معاملے پر راجیو رنجن اور بینش وانی دونوں کا مؤقف حاصل نہیں ہو سکا۔
جموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس برادری نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ انتظامی جواب دہی اور کارکردگی کی نگرانی کی مکمل حمایت کرتی ہے، تاہم کسی بھی سینئر افسر کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ماتحت افسر کے ساتھ بدزبانی، دھمکی آمیز رویہ یا ایسا طرزِ عمل اختیار کرے جو سرکاری ملازم کی عزت و وقار کو مجروح کرے۔بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے اور متعلقہ آئی اے ایس افسر پر سرکاری فرائض کی انجام دہی کے دوران غیر مہذب اور توہین آمیز زبان استعمال کرنے کے الزامات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
جے کے اے ایس برادری نے ویڈیو کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ یا جعلی قرار دینے کی مبینہ کوشش پر بھی اعتراض کیا۔ بیان کے مطابق متعلقہ خاتون افسر اور آن لائن اجلاس میں موجود دیگر حکام نے ویڈیو کو حقیقی قرار دیا ہے۔برادری نے کہا کہ معاملے کو معذرت اور ادارہ جاتی اصلاحی اقدامات کے ذریعے حل کرنے کے بجائے مبینہ طور پر وضاحتی بیان جاری کرکے تنازعے کو مزید بڑھایا گیا، جس سے جواب دہی اور پیشہ ورانہ اخلاقیات سے متعلق سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
جے کے اے ایس برادری نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، چیف سیکریٹری اٹل ڈلو اور جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ سے مطالبہ کیا کہ اصل واقعے اور اس کے بعد جاری کیے گئے وضاحتی بیان، دونوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔اس کے ساتھ متاثرہ خاتون افسر کے خلاف کسی بھی قسم کی انتقامی کارروائی روکنے، کام کی جگہ پر دھمکی آمیز رویے اور اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرنے اور متعلقہ افسر سے عوامی معذرت کا مطالبہ بھی کیا گیا۔برادری نے مزید کہا کہ ساتھی افسر کے ساتھ مبینہ بدسلوکی، زبانی توہین اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات پر راجیو رنجن کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کی جانی چاہیے۔
نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی نے بھی اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے آئی اے ایس افسر کے مبینہ رویے پر تنقید کی۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ان کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر نے خاتون کے عہدے اور وقار کو نظرانداز کرتے ہوئے اس وقت ان کے کیریئر کو خطرے میں ڈالنے کی دھمکی دی، جب انہوں نے اپنی بات مکمل کرنے کا موقع مانگا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں وقار اور عزتِ نفس سے متعلق مسائل پیدا ہوئے ہیں اور انتظامی افسران کا رویہ بھی قابلِ تشویش ہے۔ آغا روح اللہ مہدی کے دفتر نے لیفٹیننٹ گورنر اور چیف سیکریٹری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خاتون افسر کے ساتھ ناانصافی یا ان کے خلاف کارروائی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق راجیو رنجن اسلحہ لائسنس کیس میں مرکزی تحقیقاتی بیورو (سی بی آئی) کی تحقیقات کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ گزشتہ سال ان کے اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف آمدنی سے زائد اثاثوں کا مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔راجیو رنجن، جو اس سے قبل ضلع کپواڑہ کے ڈپٹی کمشنر رہ چکے ہیں، جموں و کشمیر میں غیر مقامی افراد کو ہزاروں اسلحہ لائسنس جاری کرنے میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق سی بی آئی کی تحقیقات کے دائرے میں ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں