مانسا: پنجاب میں منشیات کے خلاف مہم چلانے والے کارکن پرویندر سنگھ جھوٹا کے قتل کے معاملے میں اہل خانہ اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان مطالبات پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔ اہل خانہ نے معاملے کی سی بی آئی سے جانچ اور وزیر اعلیٰ کے استعفے سمیت متعدد مطالبات پیش کیے ہیں۔ مطالبات پورے نہ ہونے کے سبب پرویندر سنگھ کی آخری رسومات میں تاخیر ہو رہی ہے، جبکہ مانسا میں ان کے اہل خانہ اور حامیوں کا دھرنا چوتھے روز بھی جاری ہے۔
پرویندر سنگھ کے اہل خانہ اور حامی مانسا کے سول اسپتال کے باہر دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈپٹی کمشنر کی رہائش گاہ کے قریب تکونی چوک پر بھی احتجاج کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، وہ احتجاج ختم نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں :
پرویندر سنگھ کو انصاف دلانے کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ قتل کے معاملے کی جانچ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے کرائی جائے اور پوسٹ مارٹم پی جی آئی کے ڈاکٹروں کے پینل سے کرایا جائے۔ کمیٹی نے شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) سے پرویندر سنگھ کو شہید کا درجہ دینے کی بھی اپیل کی ہے۔
دوسری جانب، پرویندر سنگھ کی جانب سے تشکیل دی گئی اینٹی ڈرگ ٹاسک فورس کے ارکان کا مطالبہ ہے کہ قتل کی جگہ، دکان کے قریب، ان کا مجسمہ نصب کیا جائے۔ منشیات مخالف کارکن اوتار سنگھ نے آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دھرنے کا چوتھا دن شروع ہو چکا ہے، کمیٹی وزیر اعلیٰ اور ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے، لیکن اب تک کسی نے استعفیٰ نہیں دیا ہے۔ ان کے مطابق، استعفے کے بعد ہی پرویندر سنگھ کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں :
ادھر، جمعہ کو شرومنی اکال تخت صاحب کے جتھیدار گیانی کلدیپ سنگھ گڑگج بھی پرویندر سنگھ کے حق میں تکونی چوک پر جاری احتجاج میں شامل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ نشہ مذہب کی بنیاد پر امتیاز نہیں کرتا اور اس کی لت میں مبتلا ہر شخص متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر ’چِٹّا‘ کو پنجاب کا ایک بڑا مسئلہ قرار دیا۔
جتھیدار نے کہا کہ پرویندر سنگھ کی آواز گھر گھر پہنچ رہی تھی۔ وہ لوگوں سے اپیل کرتے تھے کہ اپنے بچوں کو طبی اور مصنوعی نشہ آور اشیا سے بچائیں۔ ان کے مطابق، پرویندر سنگھ کے اہل خانہ نے بتایا کہ منشیات کی سپلائی کرنے والی دکان پر کئی مرتبہ چھاپے مارے گئے اور نشہ آور اشیا ضبط بھی کی گئیں، لیکن اس کے باوجود فروخت جاری رہی۔ انہوں نے کہا کہ اہل خانہ کے مطابق، پرویندر سنگھ گزشتہ چھ سات دن سے اس معاملے کو مسلسل اٹھا رہے تھے، لیکن حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ بعد ازاں انہیں گولی مار دی گئی۔