ایپل اور میٹا، جن کے سربراہ برسوں سے صارفین کی نجی معلومات کے تحفظ اور کمپیوٹنگ کے مستقبل پر ایک دوسرے پر تنقید کرتے رہے ہیں، اب مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ امریکا کے طاقت ور ترین اوپن ویٹ اے آئی ماڈل کو ایپل کے اعلیٰ درجے کے میک کمپیوٹرز (Macs) پر چلایا جا سکے۔
نے رپورٹ میں اس پیش رفت کو اہم قرار دیا ہے اور کہا کہ اس اشتراک سے سلیکان ویلی کے دو دیرینہ حریفوں کے درمیان کشیدگی میں نمایاں کمی کا اشارہ ملتا ہے۔ یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی صنعت میں مصنوعی ذہانت کی دوڑ کی وجہ سے کمپنیوں کے باہمی تعلقات میں تبدیلی آ رہی ہے۔
یہ دونوں کمپنیاں اب بھی آلات اور کمپیوٹنگ کی نیکسٹ جنریشن کے شعبوں میں ایک دوسرے کی حریف ہیں، لیکن دونوں کو اپنے ذاتی کمپیوٹرز پر مصنوعی ذہانت کی طاقت ور صلاحیتیں فراہم کرنے میں فائدہ نظر آتا ہے۔
میٹا کے شعبۂ مصنوعی ذہانت کے سربراہ الیگزینڈر وانگ نے ایکسیوس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’ہمیں خوشی ہے کہ امی اور ابو ایک بار پھر آپس میں اچھے طریقے سے پیش آ رہے ہیں۔‘‘
اس سلسلے میں تازہ پیش رفت یہ ہے کہ میٹا نے ’’میوز اسپارک اوپن‘‘ (Muse Spark Open) جاری کیا ہے۔ یہ میوز اسپارک 1.3 سے ملتا جلتا ماڈل ہے، جس کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ امریکا میں تیار کردہ دستیاب اوپن ویٹ اے آئی کا سب سے طاقت ور ماڈل ہے۔
میٹا اب ان متعدد مغربی کمپنیوں میں شامل ہو گیا ہے جنھوں نے طاقت ور اوپن ویٹ نظام جاری کیے ہیں، ان کا مقصد مصنوعی ذہانت کی لاگت میں نمایاں کمی لانا، زیادہ با اختیار ہونا اور چینی مصنوعی ذہانت کے نظاموں کے متبادل فراہم کرنا ہے۔
منگل کو اینویڈیا نے اپنے نیموٹران (Nemotron) ماڈلز کے خاندان کے تازہ ورژن جاری کیے، جب کہ امریکا میں قائم ریفلیکشن اے آئی اور فرانس کی میسٹرال نے بھی گزشتہ ہفتے نئے اوپن سورس ماڈلز پیش کیے تھے۔
میٹا نے اپنے نئے ماڈل کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایپل کے ساتھ مل کر اسے ایپل کے ایم 5 الٹرا (M5 Ultra) چِپس سے لیس دو یا چار باہم منسلک میک اسٹوڈیو کمپیوٹرز پر مقامی طور پر چلانے کا انتظام کیا۔ اس مقصد کے لیے ایپل کا ایم ایل ایکس (MLX) فریم ورک استعمال کیا گیا۔
816 ارب پیرامیٹرز پر مشتمل اس طاقت ور ماڈل کو ایپل کے ہارڈویئر پر چلانے کا امکان اس بات کا عملی مظاہرہ ہے کہ کمپنیاں اپنے مصنوعی ذہانت کے نظام خود کیسے تیار اور چلا سکتی ہیں۔
میٹا کا یہ ماڈل مفت ڈاؤن لوڈ کیا جا سکے گا اور اس کا لائسنس تجارتی استعمال کی اجازت دے گا۔ یہ کلاؤڈ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں اور سافٹ ویئر تیار کرنے والوں کے لیے دستیاب آلات کے ذریعے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔
وانگ کے مطابق، دونوں کمپنیاں کئی ماہ سے مل کر کام کر رہی ہیں۔ ایپل کے سابق عہدیدار ڈینیئل گراس، جو اب میٹا سے وابستہ ہیں، نے دونوں کمپنیوں کو قریب لانے میں مدد دی۔
یاد رہے کہ ایپل کے ایگزیکٹو چیئرمین ٹم کک اور میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ صارفین کی نجی معلومات کے تحفظ اور اپنے متضاد کاروباری ماڈلز پر متعدد بار ایک دوسرے سے اختلاف کر چکے ہیں۔ 2018 میں فیس بک کے کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل کے دوران کک سے پوچھا گیا کہ اگر وہ زکربرگ کی جگہ ہوتے تو کیا کرتے۔ کک نے جواب دیا، ’’میں اس صورتِ حال میں نہ ہوتا۔‘‘ جب کہ زکربرگ نے کک کے تبصرے کو ’’انتہائی سطحی‘‘ قرار دیا تھا۔
2021 میں یہ رقابت مزید شدت اختیار کر گئی، جب ایپل نے صارفین کی رازداری کے تحفظ کے لیے نئی پابندیاں متعارف کرائیں۔ ان اقدامات سے فیس بک کے اشتہاری کاروبار کو براہِ راست دھچکا پہنچا۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، زکربرگ نے مبینہ طور پر اپنے ملازمین سے کہا تھا کہ اس تنازع پر ایپل کو ’’تکلیف پہنچانا‘‘ ضروری ہے۔
مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں اب ایسے اشتراک بھی سامنے آ رہے ہیں جن کا کچھ عرصہ پہلے تصور مشکل تھا۔ اس دوڑ نے سلیکان ویلی کی دیرینہ رقابتوں کو نئی شکل دی ہے اور سیاسی مخالفین کو بھی بعض معاملات پر ایک دوسرے کے قریب لایا ہے۔ ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس سے انتھروپک سالانہ 15 ارب ڈالر تک کی کمپیوٹنگ صلاحیت کرائے پر لے رہی ہے، حالاں کہ انتھروپک مسک کی اپنی اے آئی کمپنی کی حریف ہے۔
اسی طرح اوپن اے آئی کی دیرینہ شراکت دار مائیکروسافٹ حریف کمپنی انتھروپک میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہے اور اس کے کلاڈ (Claude) ماڈلز کو اپنی مصنوعات میں شامل کر رہی ہے۔