ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ثاقب نثار مبینہ آڈیو کو درست قرار دینے والی امریکی کمپنی کو ‘قتل کی دھمکیاں’ موصول

فیکٹ فوکس نامی ویب سائٹ کے لئے احمد نورانی کی رپورٹ کے بعد سے ملک بھر میں ایک تہلکہ مچا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ایک آڈیو انہیں موصول ہوئی ہے جس میں وہ کسی شخص کو ہدایات دیتے سنے جا سکتے ہیں کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو سزائیں دینی ہیں۔

اس آڈیو کال کو امریکہ کی ایک فورنزک کمپنی گیرٹ ڈسکوری نے فورنزک کے بعد درست قرار دیا تھا۔ فیکٹ فوکس کے مطابق فورنزک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یہ آواز ثاقب نثار کی ہی تھی اور یہ بھی وثوق سے کہا جا سکتا تھا کہ اس آڈیو میں کوئی ایڈٹنگ نہیں کی گئی۔

لیکن اب اس کمپنی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ منگل 23 نومبر کو انہیں 1000 سے زائد کالز اور بات چیت کی درخواستیں موصول ہوئیں۔ ٹوئیٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فیکٹ فوکس کے لئے کیے گئے فورنزک ٹیسٹ کے لئے ان کو دھمکیاں مل رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ ‘ہماری جانیں خطرے میں ہیں’۔ ٹوئیٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اسی دھمکی آمیز کال میں انہیں عدالتی کارروائی کی دھمکی بھی دی گئی۔ کمپنی کی جانب سے کہنا تھا کہ مختلف نتائج حاصل کرنے کے لئے ہماری ٹیم کو دھمکیاں دینا غیر اخلاقی حرکت ہے۔

اس سے قبل اس اکاؤنٹ سے ٹوئیٹ کی گئی تھی کہ سماء ٹی وی کی طرف سے بھی انہیں کال کی گئی تھی اور انہوں نے بتا دیا گیا ہے کہ وہ اپنے کلائنٹ کے کام کے بارے میں کوئی رائے نہیں دیں گے اور نہ ہی اپنے کلائنٹ سے متعلق کسی سوال کا جواب دیں گے۔

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اس ٹوئیٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فسطائیت کی معراج ہے کہ صحافی احمد نورانی کی تفتیشی رپورٹ کے لئے اپنا پروفیشنل کام کرنے والے ایک ادارے کو امریکہ میں دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں