
اسلام آباد(نمائندہ جسارت) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان سے3گروپ پاکستان کے خلاف سرگرم ہیںجو سقوط کابل سے قبل سے پاکستان میں کارروائیاں کررہے ہیں، ان میں پہلے نمبر پر تحریک طالبان پاکستان، دوسرے نمبر پر بلوچ دہشت گرد اور تیسرے نمبر پر داعش ہے،انہیں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔فرانسیسی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ ، ہمیں یقین ہے کہ جس قدر افغان حکومت مستحکم ہوگی اسی قدر ان گروپس کو وہاں سے پاکستان میں کارروائیاں کرنے کے مواقع کم ملیں گے،افغانستان میں امن خطے کے امن کے لیے ناگزیر ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں موجودہ عارضی سیٹ اپ کے بعد سے وہاں کوئی سنگین واقعہ پیش نہیں آیا، افغان حکومت سے کہہ دیا کہ آپ کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو اگر طالبان کی سرزمین سے دہشت گردی ہوگی تو افغان عوام بھی متاثر ہوں گے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں 4کروڑ افراد رہتے ہیں، جن کی فلاح وبہبود کے لیے دنیا کے پاسطالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ،پاکستان افغانستان کو تنہا تسلیم نہیں کرسکتا، ہم چاہتے ہیں کہ طالبان بھی ایسے اقدامات کریں کہ دنیا کر ان پر اعتماد بحال ہوجائے۔فرانس سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ فرانس پاکستان کے لیے بہت اہم ہے کیوں کہ پاکستان کی نصف برآمدات یورپ کو جاتی ہیں، میرا مقصد ملک کو معاشی طور پر اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے،فرانس کے صدر سے دو طرفہ تعلقات پر بات کرنا چاہوں گا، فی الحال دورے کا کوئی پروگرام طے نہیں ہے لیکن فرانس کا دورہ کرنا چاہوں گا۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارت سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے پہلے بھارت کو کشمیر پر لیا گیا یک طرفہ اقدام واپس لینا ہوگا اس اقدام کے بغیر بھارت سے کوئی بات کرنا کشمیریوں سے غداری کے مترادف ہوگا کیوں کہ دنیا تسلیم کرچکی ہے کہ کشمیر ایک متنازع خطہ ہے جسے بھارت اپنی ریاست قرار نہیں دے سکتا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اپنے بھارتی دوستوں کے لیے پریشان ہوں، بھارت میں آر ایس ایس کے نظریے پر کام ہورہا ہے، وہاں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جارہا ہے، وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں، میں نے امن کے لیے مودی کی طرف ہاتھ بڑھایا مگر بدقسمتی سے مودی آر ایس ایس کے انتہا پسند نظریے کا حامی ہے۔علاوہ ازیں وزیراعظم نے ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم ‘‘راست’’ کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت تھوڑی سی کم ہوئی ہے اسے کامیابی سمجھتا ہوں۔ان کا کہنا تھاکہ حکومت کے 5 سال مکمل ہونے پر 2023ء میں جب ہماری کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا تو میں صرف ایک چیز دیکھوں گا کہ ہماری حکومت میں غربت کم ہوئی یا نہیں، اگر خوشحالی ہوئی تو کیا اس کے ثمرات نیچے تک گئے، اگر غربت کم ہوئی تو میں اسے کامیابی سمجھوں گا، کورونا کی وجہ سے امیرترین ممالک میں بھی غربت میں اضافہ ہوا ہے۔عمران خان نے کہا کہ ملک میں ساڑھے 22 کروڑ کی آبادی میں سے صرف 20 لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں، سروے کے مطابق امیر طبقہ ٹیکس نہیں دیتا، بہت سارے لوگوں کے گھروں میں گاڑیاں ہیں شاہانہ زندگی گزارتے ہیں لیکن صفر ٹیکس دیتے ہیں، میں انہیں خبردار کررہا ہوں کہ بہت جلد ایسے لوگوں تک پہنچنے والے ہیں جو ٹیکس نہیں دیتے، ٹیکنالوجی کے ذریعے ہمارے پاس ان کا ڈیٹا آرہا ہے، ٹیکس نہ دینے والوں کے خلاف ایف بی آر بہت جلد پہنچنے والا ہے، ایف بی آر میں بھی جدید نظام متعارف کرائیں گے۔