اسلام آباد (آن لائن) ترک وزیر مذہبی امور ڈاکٹر علی ارباس نے کہا ہے کہ گمراہی اور نفرت کو عام کرنا شیطان کی پیروی کے مترادف ہے، عالمی طاقتوں کی سوشل انجینئرنگ کے باعث دنیا کو تباہی کا سامنا کرنا پڑااور مسلمان اس میں سب سے زیادہ متاثر ہوے، اسلاموفوبیا انسانی حقوق کا سنگین مسئلہ ہے جس میں شدت پسندی کا عنصر غالب ہے، اسکے زریعے اسلام کے تاثر کو
گمراہ کن طور پر منفی رنگ دے کر پیش کیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کی شام بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے زیر اہتمام اسلاموفوبیا کے اسباب اور تدارک کے سدباب کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ترک وزیر مذہبی امور نے کہا کہ مغربی میڈیا کے ادارے اسلام کے چہرے کو مسخ کرنے کی سعی میں مصروف ہیں اور مسلمانوں پر ڈھاے جانے والے مظالم کا دائرہ کار یورپ سے نکل کر اب بھارت اور میانمار تک پہنچ گیا ہے جس سے اب مسلم خواتین اور بچے بھی محفوظ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام دشمنی کی زبان الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر عام ہے اور مغربی میڈیا ہاؤسز اسلام دشمن پالیسی پر عمل کر رہے ہیں جو نبی آخرالزمانؐ کی شان میں گستاخی کے مرتکب بھی ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر علی ارباس نے کہا کہ جملہ دانشور، میڈیا، قائدین محققین اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں اسلام کے ساتھ کیے جانے والے ناروا سلوک پر اواز اٹھائیں ۔وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نبی آخرالزمان کے اعلان نبوت سے ہی اسلاموفوبیا کا آغاز ہو گیا تھا، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے سربراہان مملکت دنیا بھر میں کلمہ حق کہنے کے حوالے سے جانے چاہتے ہیں اس وجہ سے دونوں ممالک میں اسلاموفوبیا کے تدارک پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔وزیر مذہبی امور نے کہا کہ اسلاموفوبیا کی بدترین شکل بھارت میں ہے جہاں ہر روز مسکان جیسی کئی بچیاں اور بچے اس منفی رویے کا سامنا کرتے ہیں۔