حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)سندھ میں 1.4 ملین میٹرک ٹن گندم خریدنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے صرف حیدرآباد ڈویژن کے لیے 24 لاکھ 11 ہزار 500 من گندم خریدنے کا ہدف ہے جس کے لیے حیدرآباد اور میرپورخاص ڈویژن میں ابھی سے ہی باردانا فراہم کر دیاگیا ہے ۔ یہ بات سیکرٹری محکمہ خوراک سندھ راجا خرم شہزار نے آج ڈویژنل کمشنر حیدرآباد ندیم الرحمن میمن کے ہمراہ ان کے دفتر شہباز بلڈنگ حیدرآباد میں گندم کی خریداری اور باردانے کی فراہمی کے سلسلے میں منعقدہ اجلاس میںبتائی ۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر حیدرآباد فواد غفار سومرو ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ حیدرآباد سید اشفاق حسین شاہ ، ڈپٹی ڈائریکٹر منصوبہ بندی و پلاننگ حیدرآباد ثنا اللہ رند ، ضلعی فوڈ کنٹرولر روشن علی منگی ، ضلعی فوڈ کنٹرولر جامشورو شہزاد حیدرشاہانی ، ضلعی فاریسٹ آفیسر حیدرآباد عمران بھٹو ، اسسٹنٹ کمشنر ریونیو سرہان اعجاز ابڑو ، اسسٹنٹ کمشنر منظور لغاری کے علاوہ دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں حیدرآباد ڈویژن کے تمام ڈپٹی کمشنرز اور ضلعی فوڈ کنٹرولر و نے وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی ۔ اس موقع پر سیکرٹری محکمہ فوڈ سندھ راجا خرم شہزاد نے کہا کہ سندھ اسمبلی کے گزشتہ اجلاس میں گندم کی خریداری کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے ہیں جس پر عملدرآمد کے لیے ڈویژن سطح پر ڈویژنل کمشنرز کی سربراہی میں اور ضلعی سطح متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں ویجیلینس کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جن میں ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز اور دیگر متعلقہ افرادشامل ہوں گے کمیٹیاں کاشتکاروں کی تصدیق اور ان میں باردانے کی شفاف تقسیم کو یقینی بنانے اور گندم کی خریداری میں غیر ذمے داری کا مظاہرہ کرنے والے افسران، عملے یا بروکرز سمیت مڈل مین کے خلاف بھی کارروائی کرنے کا اختیار ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کاشتکاروں کو باردانے کی شفاف تقسیم کی سخت ہدایات کی گئی ہیں جس کے لیے 10 ایکڑ تک کے کاشت کاروں کو ترجیح د ینے کی پالیسی کو یقینی بنایا جائے گا جس کے تحت 10 ایکڑ تک کے کاشتکاروں کو 100 کلو گرام کی ایک سو بوریاں اور 50 کلو گرام کے دو سو پلاسٹک کے تھیلے فراہم کیے جائیں گے ۔ اسی طرح 30 ایکڑ تک کے کاشتکاروں کو ایک سو کلو گرام کی 500 بوریاں اور 50 کلو گرام کے ایک ہزار پلاسٹک کے تھیلے جبکہ 50 ایکڑ والے کاشتکاروں کو 100 کلو گرام کی ایک ہزار بوریاں اور 50 کلو گرام کے 2000 پلاسٹک کے تھیلے فراہم کیے جائیں گے ۔ جس کے لیے سندھ بھر میں گندم خریداری کے مراکز قائم کیے گئے ہیں جبکہ صرف حیدرآباد ڈویژن میں 78 گندم کی خریداری کے مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں کاشتکار اپنی تصدیق کے بعد باردانا حاصل کر سکتے ہیں کاشتکاروں کی تصدیق کے حوالے سے سیکرٹری خوراک نے کہا کہ مستقبل میں کاشتکاروں کے لیے ساتواں فارم لازمی ہوتا تھا مگر اب یہ شرط ختم کر دی گئی ہے اور آبادگاروں کو اپنے ڈھل کی رسید یا ریونیو افسران کی تصدیق یا شخصی شناخت پر شفاف طریقے سے باردانا فراہم کیا جائے گا جس میں کوئی بھی کوتاہی یا تفریق نظر آئی تو موقع پر ہی کارروائی کی جائے گی ۔ اس موقع پر باتیں کرتے ہوئے سیکرٹری خوراک نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے گندم خریداری کے مقررہ ہدف کو ہر صورت میں حاصل کیا جائے گا ۔ اس ضمن میں تمام مطلوبہ انتظامات کیے گئے ہیں بروکرز اور مڈل مین کی جانب سے کاشتکاروں سے براہ راست گندم خریدنے پر پابندی ہو گی جبکہ بیج کمپنیاں اور ملیں گندم خریدنے اور ان کے پاس موجود ذخیرے سے متعلق روزانہ کی بنیاد پر اپنی رپورٹ دینے کے پابند ہوں گے۔ اس موقع پر کمشنر حیدرآباد نے اجلاس میں ڈویژن کے تمام ڈی سیز کو اجلاس میں ہونے والے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت دی ۔اجلاس میں وڈیو لنک کے ذریعے شامل ڈویژن کے تمام ڈی سیز اور فوڈ کنٹرولز نے اپنے اپنے اضلاع میں گندم کی خریداری مراکز ، باردانے کی تفصیلات اورگندم کی مقرر کردہ خریداری ہدف کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔