حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) جامعہ سندھ جامشورو کے ترجمان نادر علی مغیری نے سینٹر آف ایکسیلنس اور ایریا اسٹڈی سینٹر کے ملازمین کے احتجاج و الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جامعہ سندھ میں 3 سینٹرز خودمختار ہیں، ان کا بجٹ براہ راست ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد سے آتا ہے، اس سے جامعہ کا کوئی تعلق نہیں۔ سینٹرز میں مالی بحران کے حوالے سے جامعہ انتظامیہ پر الزامات لگانا غلط اور بے بنیاد ہے۔ اپنے جاری کردہ بیان میں ترجمان جامعہ سندھ نے کہا کہ سینٹرز کے ڈائریکٹر بورڈ آف گورنرز کے مشورے سے ایچ ای سی اسلام آباد کے ساتھ خط و کتابت کر رہے ہیں کہ فوری طور پر بجٹ دیا جائے تاکہ سینٹر کے ملازمین کو مکمل تنخواہ، پنشن و مراعات دینے کے ساتھ دیگر دفتری کام چلائیں جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ جلدی مثبت جواب ملے گا،جہاں تک مالی مشکلات کا تعلق ہے تو وہ سینٹرز و جامعہ کو یکساں درپیش ہیں اور ان مشکلات سے نکلنے کا حل ایچ ای سی کی جانب سے بیل آئوٹ پیکیج دینا ہے، جس کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ترجمان کے مطابق تینوں سینٹرز کے ڈائریکٹرز ایچ ای سی اسلام آباد کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ گرانٹ میں اضافہ کروایا جاسکے اور ملازمین کے جائز مطالبات وقت پر حل کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ سینٹر آف ایکسیلنس، ایریا اسٹڈی سینٹر یا پاکستان اسٹڈی سینٹر کے مالی اُمور جامعہ سندھ کے ساتھ منسلک کرنا حقائق کے برعکس ہے، جبکہ ایسی رپورٹ لاعلمی کی بنیاد پر ہی لکھی اور شایع کی جاسکتی ہے۔ ترجمان کے مطابق جامعہ سندھ صرف سینٹرز کے تعلیمی و تحقیقی اُمور کو مانیٹر و ریگیولیٹ کرتی ہے، باقی سب کچھ سینٹرز خود کر رہے ہیں، اس لیے ملازمین احتجاج کے دوران جامعہ سندھ انتظامیہ کے خلاف الزام تراشی سے اجتناب کریں۔