ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پاکستان میں صارفین حقوق سے لاعلم اور عدالت جانے سے گریز کرتے ہیں

کراچی (رپورٹ:منیر عقیل انصاری) سرکاری اداروں کی طرف سے صارفین کے حقو ق کے تحفظ کے لیے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں‘صارفین کے حقوق سے متعلق قوانین اور عدالتیں موجود ہیںلیکن اس حوالے سے کم علمی ،مصروفیت اوررحجان نہ ہونے کی وجہ سے عموماً صار فین مختلف خدمات فراہم کرنے والے اداروں،دکان داروں اور کاری گروں کی بڑی بڑی زیادتیوں پر بھی صارفین کی عدالت سے رجوع کرنے سے گریز کرتے ہیں۔پاکستانی صارفین کو اپنے حقوق کے بارے میں مکمل آگاہی نہیں ہے، معلومات نہ ہونے کے باعث بیشتر صارفین اپنے حقوق کے بارے میں لاعلم ہیں، حکومت کو صارف کے حقوق، کنزیومر کورٹس کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنی چاہیے اس سلسلے میں اخبارات، ٹی وی چینلز اور دیگر ذرائع ابلاغ کی مد د لینی چاہیے۔صارف کے حقوق کے لیے ایک موبائل ایپ کی مدد بھی لی جا سکتی ہے جس کے ذریعے آگاہی ہو سکے۔ ان خیالات کا اظہار صارفین کی نمائندہ تنظیم کنزیومر رائٹس کمیشن آف پاکستان (سی آرسی پی) کے سیکرٹری جنرل میاں ابرار حفیظ، نیشنل کنزیومر موومنٹ پاکستان سندھ کے صدر سید صلا ح الدین اختر،صارف قوانین پر مہارت رکھنے والے سینئر قانون دان فرحت اللہ یاسین ایڈووکیٹ ، کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین کوکب اقبال،کنزیومر رائٹس پروٹیکشن کونسل آف پاکستان کے رکن اور کنزیومر رائٹس پروٹیکشن کونسل سندھ کے چیئرمین شکیل احمد بیگ اور کنزیومر رائٹس کونسل کے سابق ایڈ من آفیسر محمد جنید خان نے جسارت کی جانب سے پوچھے گئے سوال : کیا پاکستانی صارفین کو اپنے حقوق کے بارے میں آگاہی حاصل ہے؟ کے جواب میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ میاں ابرار حفیظ نے کہا کہ پاکستانی صارفین کو اپنے حقوق کے بارے میں مکمل آگاہی نہیں ہے،پنجاب اور خیبر پختونخوا میں سرکاری ادارے اور عدالتیں صارف کے حقوق کے لیے کا م کررہی ہیں لیکن سندھ اور بلوچستان میں صارف عدالتیں قائم ہونے کے باوجود صارف کو اپنے حقوق کے حوالے سے آگاہی کم ہونے کی وجہ سے صارفین کاکنزیومر کورٹ سے رجوع کرنے کا رجحان کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ صارف کے تحفظ کے لیے متعارف کرائے گئے قانون سے آگاہی فراہم کرنے کے لیے مہم چلائی جائے تاکہ صارفین کنزیومر کورٹس و کونسلز سے رجوع کریں‘حقو ق سے لاعلمی، صارفین کاکنزیومر کورٹ سے رجوع کرنے کا رجحان کم ناقص سروسز اور سامان فروخت کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی صارفین کی عدم ترجیحات میں شامل ہوگئی ہے، حکومت کو کنزیومر کورٹس کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنی چاہیے اور اس سلسلے میں اخبارات، ٹی وی چینلز اور دیگر ذرائع ابلاغ کی مد د لینی چاہیے۔ سید صلا ح الدین اختر کہا کہ صارفین کے حقوق کے تحفظ کیلئے قائم کنزیومر کورٹس غیر مؤثر اور انکے پیچیدہ طریقہ کار سے عوام مایوسی کا شکار ہیں،صارف عدالتیں عوام کی دسترس میں ہونی چاہیے تاکہ اپنی شکایات آسانی سے درج کراسکے ، پرائس لسٹ جاری کرنے کے لیے ون مین شو کے بجائے تما م صارف تنظیموں کو شامل کر کہ میڈیا کے سامنے آن کیمرہ جاری کرناچاہیے،جس سے سرکاری رٹ قائم ہوسکے ۔بیورہ آف سپلائی کا کردار بھی مشکوک ہے قیمتیں کم ہونے کے بجائے مستقل بڑھتی رہتی ہیں، دکانداروں اور انتظامیہ کے مابین مذاکرات کے نتیجے میں ہمیشہ منافع خوروں کو فائدہ پہنچتا ہے۔نیشنل کنزیومر موومنٹ سندھ صارفین کو انکے حقوق کی آگاہی کے ساتھ ساتھ ذمہ داران کا محاسبہ بھی کرے گا اور قیمتوں کے کنٹرول کو ممکن بنانے کیلئے صارفین کی قانونی وعملی مدد کیلئے اقدامات کرنے کیلئے کوشاں ہے‘ قوانین کا اطلاق قیمتوںکو کنٹرول کرنے پر نظر نہیںآتا ہے۔ صارفین کے حقوق کو پلیٹ فارم مہیا کرنے کے لیے کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ سندھ اسمبلی سے متفقہ طور پر تو پاس تو ہو گیا ہے، اس ایکٹ کو اپنی اصل روح کے مطابق نافذ العمل کیا جائے تاکہ صارفین اس سے استفادہ حاصل کرسکیں‘ پرائس چیکنگ کا نظام بھی بوسیدہ ہے اور حکومت سندھ کی جانب سے بنایا گیا ادارہ کنزیومر رائٹس پروٹیکشن کونسل بھی ابھی تک فعال نہیں ہوسکا ہے بڑے بڑے جنرل ا سٹوروں سے لے کر فرنیچر کی دکانوں تک، اے سی کمپنیوں سے لے کر گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں تک،ٹیلی کام کمپنیوں سے لے کر عام ٹائر شاپ تک صارفین کے حقوق کا خیال کرنے والا کوئی نہیں ہے۔آج بھی صارفین کو ملاوٹ شدہ اور مہنگی اشیاء فراہم کی جاتی ہیں۔حقو ق سے لاعلمی، صارفین کاکنزیومر کورٹ سے رجوع کرنے کا رجحان کم ناقص سروسز اور سامان فروخت کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کاروائی صارفین کی عدم ترجیحات میں شامل ہوگئی ہیں۔فرحت اللہ یا سین ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہر وہ شخص جو روپے خرچ کر کے اشیاء خریدے اور کوئی بھی خدمات حاصل کرے وہ صارف ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی صارفین کو ان کے حقوق حاصل ہیں،بازار سے سودا سلف، کپڑے، کتابیں، الیکٹرونکس کا سامان یا کوئی بھی شے خرید نا اور ضرورت نہ پڑنے یا معیار کم ہونے کی صورت میں اْس شے کو اْسی حالت میں دکان دارکو واپس کرنا صارف کا حق ہے اور دکان دار کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ صارف سے شے واپس لے کر اْسے پوری رقم واپس کرے،لیکن معلومات نہ ہونے کے باعث بیشتر شہری ان سے لاعلم ہیں۔بحیثیت صارف اشیا کے ناپ تول، وزن، قیمت، حتمی تاریخ اور معیار پر سمجھوتا نہ کرنا ہر پاکستانی کا حق ہے۔کوکب اقبال نے کہا کہ آج بھی صارف اپنے حقوق سے نا آشنا ہے جس کی وجہ سے صارفین کو غیر معیاری اشیاء مہنگی قیمت میں مل رہی ہے جبکہ بڑے پیمانے پر صارف کے ساتھ آن لائن فراڈ بھی کیا جارہا ہے، صارفین کو اپنے حقوق کا دفعہ کرتے ہوئے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو بھی شکایات درج کرنی چاہیے تاکہ ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری و دیگر ناجائز ذرائع سے کمانے والوں کے خلاف کارروائی ہوسکے۔شکیل احمد بیگ نے کہا کہ آج پوری دنیا میں صارفین کے حقوق کا عالمی دن منایا جارہا ہے لیکن افسوس کے ساتھ پاکستان میں صارف کے حقوق تو درکنار جو ادراے بنے ہوئے صارف کے حقوق کے حوالے سے وہ بھی ناکام نظر آتے ہیں اگر میں شہر کراچی کی بات کروں تو اس وقت جو ہماری اشیاء خوردونوش ہے جن کی قیمتوں کا تعین کنٹرول آف جنرل پرا ئسیز کا کام ہے لیکن تمام اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں کوئی کنٹرول نظر نہیں آتا ہے یہاں تو جو لسٹ بنتی ہے وہ تک صارفین کو مہیا نہیں کی جارہی ہے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہم اس وقت ناامیدی کی کیفیعت میں اپنی زندگی گزار رہے ہیںمیں با حیثیت چیئر مین کنزیومر رائٹس پروٹیکشن کونسل آف پاکستان بہت زیادہ مایوس ہوں میں سمجھتا ہوں کہ جو ادارے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں وہ آسانی کے ساتھ قیمتوں کو کنٹرول کرسکتے ہیں لیکن وہ ایسا نہیں کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں صارف کو معیاری اشیا حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس کے علاوہ انہیں قیمتوں میں بھی لوٹا جاتا ہے۔ شکیل بیگ نے کہا کہ سندھ میں صارف عدالتیں فعال ہو چکی ہیںجس سے لوگوں کو امید کی نئی کرن ملی ہے۔ آ جکل آن لائن شاپنگ میں جسطرح سے فراڈ ہو رہا ہے ،بڑی تعداد میں لوگ اپنی شکایات صارف عدالتیں درج کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ایک موبائل ایپ کی مدد بھی لی جا سکتی ہے جس کے تحت آگاہی فرام کی جا سکتی ہے۔ محمد جنید خان نے کہا کہ صارف کے حقوق 8 نکات پر مشتمل ہیں!اطمینان ، حفاظت، انتخاب، معلومات، صحت مند ماحول، شکایت کی صورت میں شنوائی اور ازالے کا حق شامل ہیں،لیکن کراچی کا صارف اپنے ابتدائی حقوق سے محروم ہے۔صارفین کے پاس ایسے مؤثر فورم موجود نہیں جہاں وہ اپنے مسائل کے حل اور شکایات کے ازالہ کیلئے رجوع کر سکیں،سرکاری اداروں کی طرف سے صارفین کے حقو ق کے تحفظ کے لیے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔بہت سے نجی اداروں کے خلاف صارفین کی شکایتوں کا انبار لگا ہوا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں