کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک سے جمہوریت کو کوئی نقصان نہیں ہوگا، ایم کیوایم سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے اپنی یادداشتیں پیش کی ہیں۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے درست کہا کہ اگلا سال اس سے زیادہ بہتر ہو گا،حکومت عدم اعتماد کا سامنا کرنے سے بھاگ رہی ہے، آئینی عمل کوبلڈوز کرنے کے منفی نتائج برآمد ہونگے،متحدہ کے مطالبات پر اعتراض نہیں،بلدیاتی اداروں کو اختیارات دے کر مضبوط بناناچاہتے ہیں۔ بدھ کو یوم پاکستان کے موقع پر مزار قائد پر حاضری دینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمارا ملک کافی مشکلات سے گزرا ہے اور اب بھی مسائل کا سامنا ہے، آج کے دن ہمیں اپنے کشمیری بھائیوں کو یاد رکھنا چاہیے۔ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ 1989 میں اسوقت کی وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے خلاف پیش کی گئی عدم اعتماد کی قرارداد پر 8 دن کے اندر ووٹ/فیصلہ کیا گیا تھا لیکن اب پی ٹی آئی حکومت مشترکہ اپوزیشن کی طرف سے پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے سے بھاگ رہی ہے۔اس آئینی عمل میں تاخیر نہیں کی جا سکتی اور اس عمل میں تاخیر یا بلڈوز کرنے کی کوشش کے منفی نتائج برآمد ہوں گے۔ ایک سوال کے جواب میں سید مراد علی شاہ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے کچھ مطالبات رکھے ہیں ان پر ہمیں اعتراض نہیں ہے۔ مردم شماری کے معاملے پر سندھ کی دیگر جماعتوں نے ہم سے تعاون نہیں کیا، ہم نے بلدیاتی قانون پر بہت سی تجاویز مانی ہیں،بلدیاتی قانون نئی تجاویز کے ساتھ اسمبلی میں پیش ہوا اور کمیٹی کے پاس ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری ایم کیو ایم کے ساتھ بات ہوئی ہے جو ضروری ہو گا اس پر قانون سازی کریں گے، ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بلدیاتی ادارے مضبوط ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مردم شماری پر اعتراض تھا، ہم نے الیکشن کمیشن کی ڈیڈلائن کے حساب سے بلدیاتی بل پاس کیا۔اس بلدیاتی بل پر گورنر نے اپنی تجاویز دیں ہم نے ان کو ٹھیک کر کے دوبارہ پاس کیا۔وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے متعلق سوال پر وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ عدم اعتماد آئین کے مطابق جمع کرائی گئی ہے۔ اس سے پہلے سابق وزیر اعظم بینظیر کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد آئی۔ اس ماحول میں جمہوریت کے نقصان کے ذمے دار سے متعلق سوال پر گورنر سندھ نے وزیر اعلیٰ کی طرف اشارہ کر دیا جس پر صحافیوں اور دیگر افراد کے قہقہے لگ گئے۔قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ نے قائداعظم محمد علی جناح کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی، فاتحہ خوانی کی اور مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات درج کیے۔ ان کے ہمراہ انکی کابینہ کے ارکان سعید غنی، سید سردار شاہ، شہلا رضا، گیان چند اسرانی اور دیگر بھی تھے۔