ڈھاکا(صباح نیوز)بنگلا دیش کی عدالت نے 1971ء میں ہونے والی جنگ سے متعلق مبینہ جرائم کے حوالے سے جماعت اسلامی کے سابق رکن اسمبلی عبدالخالق مندول سمیت 2 بزرگ سیاسی رہنمائوں کو سزائے موت سنادی۔ترک خبر ایجنسی اناطولو کی رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی کے بزرگ رہنما عبدالخالق مندول سابق رکن اسمبلی اور اس وقت جماعت اسلامی کے ضلعی سربراہ ہیں۔رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی کے بزرگ رہنما کے ساتھ ایک اور بزرگ سیاسی رہنما خان رکن الزمان کو بھی سزا سنائی گئی ہے تاہم وہ مفرور ہیں۔انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کے 3 رکنی بینچ نے مذکورہ فیصلہ سنادیا، اس ٹریبونل کی تشکیل 2009ء میں ہوئی تھی جبکہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں نے عدالتی کارروائی کے معیار پر شدید تنقید کی تھی۔جماعت اسلامی کے رہنما کے وکیل مطیع الرحمن کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔اس سے قبل عبدالخالق مندول کو 2015ء میں گرفتار کیا گیا تھا، بعد ازاں ان پر جرائم عاید کیے گئے تھے۔ان کے خلاف 2018ء میں ٹرائل کا آغاز ہوا تو 4ملزمان نامزد تھے لیکن ان میں سے 2افراد ضعیف العمری اور خرابی صحت کے باعث انتقال کر گئے۔خیال رہے کہ بنگلا دیش کی حکومت کی جانب سے قائم کیے گئے متنازع انٹرنیشنل کرائم ٹریبونل کے ذریعے جماعت اسلامی کے متعدد رہنمائوں سمیت درجنوں افراد کو پھانسی دی جاچکی ہے۔خصوصی ٹریبونل نے نومبر 2017ء میں جماعت اسلامی کے 6رہنمائوں کو سزائے موت سنائی تھی۔ان رہنمائوں کو 1971ء میں پاکستان سے آزادی کے دوران مبینہ طور پر انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔سزائے موت پانے والوں میں ابو صالح محمد عبدالعزیز میاں، روح الامین عرف منجو، ابومسلم محمد علی، عبداللطیف، نجم الہدیٰ اور عبد الرحیم میاں شامل تھے، جن میں سے عبداللطیف اس وقت جیل میں موجود تھے جبکہ دیگر مفرور تھے۔ان پر ذیلی ضلع گائے بندھا صدر کے گائوں موجامالی میں ہندو شہری کو لوٹنے اور قتل کرنے، چھترا لیگ کے رہنما کے قتل اور ضلع کے قصبے سندر گنج کی 5یونینز کے 13چیئرمین اور اراکین کو قتل کرنے کا الزام تھا۔یاد رہے کہ جماعت اسلامی کے سپریم لیڈر کو 2016ء میں پھانسی دی گئی تھی، ان رہنمائوں کو دی گئی سزا کے خلاف بنگلا دیش میں2013-14ء میں شدید احتجاج کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔اس حوالے سے انسانی حقوق کے گروپس کا کہنا ہے کہ ان ٹرائلز میں بین الاقوامی معیار کا خیال نہیں رکھا گیا۔بنگلا دیش کی اعلیٰ عدالت نے 2013ء میں جماعت اسلامی کے منشور کو ملک کے سیکولر آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے انتخابات میں حصہ لینے پر بھی پابندی عاید کردی تھی۔دوسری جانب بنگلا دیشی حکومت کا موقف تھا کہ یہ ٹرائلز 1971ء کی جنگ کے زخم بھرنے کے لیے ضروری تھے، جس میں 30لاکھ افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا جاتا ہے تاہم آزادانہ محقق اس تعداد کو کہیں کم بتاتے ہیں۔