کوئٹہ (آن لائن) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ گائیڈڈ یا ان گائیڈڈ ڈپٹی اسپیکر کے ہاتھوں ملک کے آئین و قانون کو توڑا گیا ہے‘ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا سیاہ ترین دن نہیں تھا اس سے پہلے بھی ایسے سیاہ دن ہم نے دیکھے ہیں لیکن بد قسمتی سے ان آئین شکنوں کے خلاف آج تک کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے‘ ہم جیسے لوگ اس ملک کے آئین میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں تو ہمیں تختہ دار پر لٹکایا جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آن لائن سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ ڈپٹی اسپیکر خود متنازع ہے اور گزشتہ ڈھائی سال سے عدالت کے اسٹے آرڈر پر ہے اور اس کی سیٹ اسٹے آرڈر کی محتاج ہے‘ ڈپٹی اسپیکر کے ہاتھوں سے ملک کا آئین وہاں توڑا گیا ہے جہاں آئینی ترامیم ہوتی ہیں اور نئے قوانین بنتے ہیں تو پھر عام آدمی سے ہم کیوں توقع کریں کہ وہ آئین اور قانون کی پاسداری کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوان جب اس آئین میں رہتے ہوئے احتجاج کرتے ہیں تو دفعہ 144کی خلاف ورزی پر انہیں غائب کردیا جاتا ہے لیکن سندھ ہائوس پر حملہ کرنے والوں پر دفعہ 144 لگائی جاتی ہے اور عدالتیں ان کی گرفتاری کا آرڈر کرتی ہیں لیکن وہی لوگ اسمبلی میں آکر دنگا کرتے ہیں‘ تو کہاں ہے وہ قانون، اس کا مطلب تو یہ ہے کہ قانون طاقتور کے لیے الگ ہے اور کمزور کے لیے الگ ہے ‘ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے خلاف کیس میں 52 ہزار ووٹ جعلی قرار دیے گئے ہیں اس کے باوجود وہ اسٹے آرڈر پر چل رہے ہیں‘ میری عدلیہ سے درخواست ہے کہ یہ مسئلہ پارلیمنٹ کا ہے‘ ہم پارلیمنٹ میں بیٹھ کر حل کریںگے‘ اگر یہ مسئلہ پارلیمنٹ میں حل نہیں کیا جاتا تو پھر اس وقت سے ڈرا جائے جب عوام سڑکوں پر نکل آئیں‘ پھر اگر کسی ایک کے لیے آئین و قانون نافذ نہیں کیا جاتا تو ہر کوئی آئین و قانون کی دھجیاں اڑانے میں سر فہرست رہے گا۔