روس نے امریکہ کو مشورہ دیا ہے کہ "جنگی جرائم کے خلاف عدالتی کاروائی سب سے پہلے یوگوسلاویہ اور عراق سے شروع ہونی چاہئیے”۔
یوکرین میں حالات کے حوالے سے امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ جنگی جرائم کی وجہ سے صدر ولادی میر پوتن کے خلاف عدالتی کاروائی شروع کروانے کی ضرورت ہے۔
جوابی بیان میں روس وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاہرووا نے کہا ہے کہ امریکہ کو جنگی جرائم کے بارے میں عدالتی کاروائی یوگوسلاویہ اور عراق سے شروع کرنی چاہیے۔
سوشل میڈیا ٹیلی گرام سے جاری کردہ بیان میں زاہرووا نے کہا ہے کہ امریکہ،عدالتی کاروائی کو، یوگوسلاویہ کی بمباری اور عراق پر قبضے سے شروع کرے۔ یہی نہیں ان کا سامنا سریبرینیتسا کے مناظر کے مرکزی ہدایتکاروں سے بھی ہو سکتا ہے۔ اور یقیناً کوسووا میں امریکی سرکاری حکام کے لبادے میں کی جانے والی انسانی اعضاء کی تجارت کے ہدایتکاروں کے چہرے سے بھی پردہ ہٹایا جا سکتا ہے۔ ان سب عدالتی کاروائیوں کو ختم کرتے ہی امریکہ جاپان پر نیوکلئیر بمباری پر بھی کاروائی شروع کر سکتا ہے”۔
روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے بھی موضوع سے متعلق کہا ہے کہ ” گھِسے پِٹے بہانوں کے ساتھ عراق میں جنگ شروع کرنے والے، نیٹو شراکت داروں کے ساتھ لیبیا کو تہس نہس کرنے والے اور شام میں گھُسنے والے امریکی سیاستدانوں کے ضمیر اچھی حالت میں نہیں ہیں”۔
واضح رہے کہ بوچا میں قتل عام کے دعووں کے بعد امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ روس پر نئی پابندیاں لگائی جائیں گی۔ انہوں نے پوتن کے لئے ‘جنگی مجرم’ کے الفاظ استعمال کئے اور کہا تھا کہ ” وہ ایک جنگی مجرم ہے لیکن ہمیں معلومات جمع کرنے کی ضرورت ہے”۔