اسلام آباد(آن لائن،اے پی پی)ایوان بالا میں الیکٹرانیک ووٹنگ مشین اور سمندر پار پاکستانیوں کو انٹرنیٹ ووٹنگ کا حق دینے کے خاتمے اور نیب قوانین میں ترامیم سے متعلق بلز کثرت رائے سے منظور کر لیے گئے ،بل پیش کرنے کے موقع پر اپوزیشن اراکین کا شدید احتجاج اور نعرے بازی ،اپوزیشن اراکین نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں اور امپورٹڈ حکومت نامنظور کینعرے لگاتے ہوئے اسپیکر ڈائس کے گرد جمع ہوگئے۔جمعہ کے روز سینیٹاجلاس کے د وران وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2022پیش کیا ،اس موقع پر قائد ایوان سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ بل میں دونوں ترامیم سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمان میں پیش کی گئی جس پر الیکشن کمیشن نے اعتراضات کیے تھے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے بیرون ملک پاکستانیوں کا ووٹ کا حق ختم نہیں کیا ہے بلکہ اس کے طریقہ کار کو تبدیل کیا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ الیکشن کمیشن کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے طریقہ کار کے مطابق بیرون ممالک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دے دے۔ اس موقع پر اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہاکہ ہم سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ پر ڈاکا ڈالنے کی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے، یہ پاکستانی ہمارا اثاثہ ہیں اور یہ ملککو قیمتی زر مبادلہ بھجواتے ہیں۔ حکومت طاقت کے نشے میں بل لانے کی کوشش نہ کریں ،اس موقع پر سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ قائد ایوان نے مجھے اور سینیٹر اعظم سواتی کے بارے میں کہا ہے کہ ہمیں یہ بل منظور تھا ،یہ حکومت کی بدنیتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ا س بل کو کمیٹی میں بھجوایا جائے موجودہ حکومت کو آزاد اور منصفانہ انتخابات قبول نہیں ہیں، اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نے بل کو کمیٹی بھجوانے یا نہ بھجوانے کے حوالے سے ایوان کی رائے لی، ایوان میں اکثریت نے بل کے حق میں ووٹ دیا۔ اس موقع پر اپوزیشن اراکین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے بل کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں اچھال دیں اور نعرے بازی کرتے رہے ،اجلاس کے دوران وفاقی وزیر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے نیب آرڈیننس ترمیمی بل 2022ایوان میں پیش کیا ایوان میں اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود چیئرمین سینیٹ نے کثرت رائے کی بنیاد پر بل کو منظور کر لیا۔ اس موقع پر اپوزیشن اراکین امپورٹڈ حکومت نامنظور اور این آر او نامنظور کے نعرے لگاتی رہے۔دریں اثناء سینیٹ میں قائد ایوان و وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان کے ساتھ 20لاکھ لوگ نہیں نکلے تو کسی کا کیا قصور ہے، لانگ مارچ کی آڑ میں خوبصورت شہر کو جلا کر چلے گئے، درختوں کو آگ لگائی گئی، عمارات کو نقصان پہنچایا گیا۔ جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس میں قائد حزب اختلاف کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے قائد ایوان سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ 20 لاکھ لوگ نہیں نکلے تو کسی کا کیا قصور ہے، خیبرپختونخوا میں ان کی حکومت ہے، پولیس اور کرینیں ان کے ساتھ تھیں، اٹک پل سے 20 ہزار لوگ بھی نہیں آئے، یہ ہمارے لیے معیشت کے حوالے سے بارودی سرنگیں بچھا کر گئے۔علاوہ ازیں سینیٹ اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان کو مشکل حالات کا سامنا ہے، آئی ایم ایف پروگرام میں جانے کیلییپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا تاہم غریب عوام کو مہنگائی سے بچانے کیلیے اقدامات کریں گے۔جمعہ کے روز سینیٹ اجلاس کے دوران وقفہ سوالات میں سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے کہاکہ گورنر اسٹیٹ بنک کی تعیناتی کے بعدکیا اسٹیٹ بنک پر ہمارا اختیار قائم ہو جائیگاکے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے خزانہ نے کہاکہ اسٹیٹ بنک کے قوانین میں تبدیلی لیکر آئے ہیں گورنر اسٹیٹ بنک کی تنخواہ کا تعین اسٹیٹ بنک کے ممبران کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے شرائط پر عمل درآمد کرنے میں مسائل کا سامنا ہے، اگر ہم بیرونی دنیا کے ساتھ کسی قسم کے معاہدے کرتے ہیں تو ان کو پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہاکہ پاکستان کی مالی خودمختاری بحالی کرنے کیلئے کیا کوئی پالیسی زیر غور ہے جس پر وزیر مملکت برائے خزانہ نے کہاکہ ہمیں اپنی معاشی خودمختاری کو بحال کرنے کیلئے اقدامات کرنے ہونگے ہم اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں گے اور اس حوالے سے آئی ایم ایف سمیت دیگر مالیاتی اداروں سے بھی بات چیت کریں گے اور اس حوالے سے قانون سازی بھی کریں گے ۔