اسلام آباد / کراچی/ لاہور: ملک بھر کے علماء و مشائخ کی نمائندہ تنظیم علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان 3000 سے زائد علماء و مشائخ نے اسرائیلی صدر سے پاکستانی وفد کی ملاقات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ریاست اپنی پوزیشن واضح کرے، اسرائیلی صدر کی پاکستانی وفدسے ملاقات کی تصدیق قابل مذمت و شرمناک ہے۔
ان خیا لات کا اظہارملک بھر کے علماء و مشائخ کی نمائندہ تنظیم علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان کی اپیل پرسرائیلی صدر کی پاکستانی وفدسے ملاقات پر اسرائیل کو تسلیم کرنا پاکستان کی پاکستانیت کا انکار کرنا ہے۔
قرآن و سنت کے احکام کو بالائے طاق رکھ کر اسرائیل سے دوستی کرنا بہت بڑی جسارت ہے منگل کے روز ملک بھر میں منائے گئے یوم مذمت کے موقع پر مختلف شہروں میں منعقدہ اجتماعات سے چیئرمین سفیر امن پیر صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی سجادہ نشیں آستانہ عالیہ بھیج پیر جٹا، UMFPکے مرکزی صدر پیر غلام غوث محی الدین حسینی جانی شاہ، علامہ پروفیسر ڈاکٹر جلاالدین نوری،پروفیسر ڈاکٹردلاور خان و دیگر نے کیا ہے۔
مقررین نے اپنے اپنے خطابات میں کہا کہ پاکستانی وفد کی اسرائیلی حکام سے ملاقاتیں نظریہ پاکستان پر بہت بڑا حملہ ہے۔ اسرائیل کے بارے میں بعض عرب ممالک اور ترکی کا کردار امت مسلمہ کی ترجمانی نہیں کرتا۔ اسرائیل عربوں کا قاتل اور اُمت مسلمہ کا بہت بڑا دشمن ہے۔ اسرائیل کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے والوں کو اس کے ہاتھوں اور دامن پر لگا مسلمانوں کا خون نظر کیوں نہیں آتا۔
مسلم حکمرانوں کو خیموں میں زندگی بسر کرنے والے فلسطینیوں کی تیسری نسل کا کچھ احساس کرنا چاہیے انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا دورہ کرنے والے وفد کے حوالے سے حکومت پاکستان۔ او آئی سی۔اور اقوام متحدہ فوری طور پر مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کا نوٹس لے۔
پاکستان کے نام پر اسرائیل جانے والے وفد نے آئین پاکستان سے انحرافی کی ہے اور پاکستانی تشخص کو خراب کرنے کی سازش کی ہے۔پاکستانی قوم،حکومت فلسطینی عوام کے ساتھ ہیں پاکستان کسی بھی صورت اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتا کشمیر اور فلسطین مسلم امہ کے وہ مسائل ہیں جن کے حل کے بغیر عالمی امن ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت نے یہودی آباد کاروں کو عبادت کے لیے جبرا الاقصیٰ میں داخل کر کے اقوام متحدہ سمیت دیگر تمام عالمی اداروں کی قرارداد اور فیصلوں روگردانی کی ہے۔