صدر رجب طیب ایردوان نے ترکی کی ایجین کے علاقے میں ایفسس 2022 جنگی مشقوں کے ذریعے دنیا بھر کو پیغام دینے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہر کوئی اس ملت کے کیا کچھ کر سکنے کا مشاہدہ کرے گا۔
صدر ایردوان نے استنبول میں شہید مصطفی جامباز مقابلہ مصوری کی ایوارڈ تقریب سے خطاب کیا۔
ترکی۔ یونان فرنٹ لائن پر بحیرہ ایجین کے جزائر میں اسلحہ اندوزی کیے جانے پر بڑھنے والی کشیدگی کا ذکر کرنے والے ایردوان نے یونان پر کڑی نکتہ چینی کے عمل کو جاری رکھا ۔
انہوں نے کہا کہ’’یونان نے ممالک سے جنگی مشق میں شرکت نہ کرنے کی اپیل کی لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا، ہماری اس مشق میں 37 ممالک نے حصہ لیا، یونان نے بھی آدھے سے زیادہ کو یہ خبر بھیجی کہ ‘شرکت نہ کریں’۔ خاص طور پر امریکہ سمیت تقریباً تمام ممالک نے یونان کی بات سنی ان سنی کر دی اورسب نے مل کر ہمارے ساتھ اس مشق میں حصہ لیا۔
کامیابی سے پایہ تکمیل کو پہنچنے والی ایفسس2022 جنگی مشقوں کی وساطت سے ترکی کے ایجین کے حوالےسے عزم کا ایک بار دنیا بھر کے سامنے مظاہرہ کیے جانے پر زور دینے والے صدر ِ محترم نے کہا کہ ’’اللہ تعالی کا شکر ہے کہ یہ کامیاب مشقیں بعض فریقین کو لازمی جواب دینے میں ایک خوش آئندہ قدم ثابت ہوا ہے، اب کے بعد بھی ہمارے مصمم اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اور یہ ہماری قوم کی اہلیت و صلاحیت کا مرہون ِ منت ہے۔