ویب ڈیسک —
افغانستان میں منگل اور بدھ کی شب زلزلے کے باعث ہونے والی تباہی کے نتیجے میں 900 سے زیادہ افراد ہلاک اور لگ بھگ 600 زخمی ہو گئے ہیں۔
طالبان حکومت کی وزارتِ برائے قدرتی آفات کے نائب وزیر مولوی شریف الدین مسلم نے کابل میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ زلزلے کے نتیجے میں صوبہ پکتیا اور خوست میں ہزاروں گھر تباہ ہو چکے ہیں۔
طالبان حکومت کے وزیرِ اعظم محمد حسن اخوند نے زلزلے سے متاثرہ صوبوں پکتیکا اور خوست میں جاری امدادی کاموں کا جائزہ لینے کےلیے صدارتی محل میں ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے افغانستان میں موجود معاون رمیز الکبرو نے کہا ہے کہ "امدادی کارروائیوں کے لیے جاری کام ابھی راستے میں ہے۔”
خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق امریکی جیالوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز افغانستان کے جنوب مشرقی شہر خوست سے 44 کلو میٹر دور کا علاقہ تھا جب کہ اس کی گہرائی 51 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔
زلزلے کے جھٹکے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سمیت کوہاٹ، مالاکنڈ، سوات، بونیر اور دیگر شہروں میں بھی محسوس کیے گئے ہیں۔ تاہم پاکستان سے فوری طور پر ہلاکتوں اور مالی نقصان کی کوئی معلومات نہیں آئیں۔
خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق افغان حکام نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے مشرقی حصے میں زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 900 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
افغان صوبے پکتیا سے آنے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زخمیوں کو متاثرہ مقامات سے ہیلی کاپٹروں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
No media source currently available
افغانستان کی سرکاری نیوز ایجنسی’ بختیار’ کی رپورٹ کے مطابق امدادی کارکن ہیلی کاپٹروں کی مدد سے متاثرہ مقامات تک پہنچ رہے ہیں۔ اسی نیوز ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل عبدالوحید ریان نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ صرف پکتیا صوبے میں 90 گھر منہدم ہوئے ہیں اور درجنوں افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
طالبان حکومت کے نائب ترجمان بلال کریمی کے مطابق پکتیا صوبے کے چار اضلاع میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے جہاں سینکڑوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے ہیں جب کہ درجنوں مکانات تباہ ہو چکے ہیں۔
انہوں نے ایک ٹویٹ میں امدادی اداروں سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں پہنچیں تاکہ بڑی تباہی سے بچا جا سکے۔
واضح رہے کہ افغانستان میں 2002 میں چھ اعشاریہ ایک شدت کے زلزلے کے نتیجے میں ایک ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ اسی شدت کا زلزلہ 1998 میں بھی آیا تھا جس کے نتیجے میں کم از کم 4500 افراد ہلاک ہوئے تھے
اس خبر میں شامل معلومات خبر رساں اداروں ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ اور ‘رائٹرز’ سے لی گئی ہیں۔