لندن میں پولیو وائرس کے انکشاف نے محکمہ صحت کی نیندیں اڑا دی ہیں. چار دہئیوں بعد پہلا بار لندن میں پولیو
وائرس کا سیمپل ملا ہے. محکمہ صحت اب اس بات کا پتہ لگانے میں مصروف ہے کہ یہ وائرس ان کے ملک میں
کہاں سے پہنچا ہے؟
دنیا کے تقریبا 200 ممالک سے پولیو وائرس کا خاتمہ ہو چکا ہے صرف پاکستان اور افغانستان ایسے دو ملک
ہیں جہاں آئے روز کوئی نہ کوئی کیس سامنے آتا رہتا ہے. پاکستان کے انسداد پولیو پروگرام کا دعوی ہے
کہ ملک میں 90 فیصد پولیو کا خاتمہ کر دیا گیا ہے لیکن شمالی وزیرستان کے علاقے سے اس خاتمہ ممکن
نہیں پارہا جس کی وجہ سے نئے کیسز سامنے آتے رہتے ہیں.
ذرائع کے مطابق خدشہ یہی ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ وائرس پاکستان سے سفر کر کے لندن پہنچا ہے لیکن
پاکستانی حکام اس کی شدید تردید کرتے ہیں. پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں دو قسم کے وائرس
پائے جاتے ہیں اور لندن میں جس وائرس کا سیمپل ملا ہے وہ 22 ملکوں میں موجود ہے.
خدانخواستہ اگر وائرس کا سورس پاکستان ثابت ہوجاتا ہے تو پھر پاکستانیوں کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا
پڑے گا. سفری پابندیوں اور ویکسنیشن سرٹیفکیٹ کی شرط بھی عائد ہوسکتی ہے.