برطانوی وزیر خارجہ لز ٹرس نے دارالحکومت انقرہ کے تاریخی مقامات میں سے Atakule کے سامنے اپنے پیغام میں کہا کہ روس نے یوکرین کی جنگ میں خوراک کو "جنگی ہتھیار” کے طور پر استعمال کیا۔
وزیر خارجہ ٹرس نے اپنے دورہ ترکی کے دائرہ کار میں، انقرہ کی اہم عمارتوں میں Atakule کو اپنے عقب میں رکھ کر یوکرین میں اناج کے بحران کے بارے میں اہم پیغام شئیر کیا ہے۔
انہوں نے ٹوئٹر پر ویڈیو پیغام شیئر کرتے ہوئے کہا کہ خوراک اور اناج کو کبھی بھی جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے ۔ ٹرس نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کی افواج نے بندرگاہیں بند کر دیں اور دنیا بھر میں اناج کی برآمدات کو روک دیا ہے ۔ یہ سب کچھ پہلی بار ہوا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ وہ انقرہ میں اناج کے بحران کے مسئلے کا حل تلاش کرنے میں ممدع معاون ثابت ہونے کے لیے ترکی تشریف لائی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "ترکی اناج کی دنیا کو برآمدات میں ایک اہم اسٹریٹجک پارٹنر ہے، خاص طور پر اہم سمندری راستوں کو دوبارہ کھول کر خوراک کی محفوظ گزر گاہ کو یقینی بنانے کے لیے بڑا اہم کردار ادا کررہا ہے۔ ہم اس مسئلے کو حل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ برطانیہ اور ترکی جیسے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر تمام دروازے کھولنے کی کوششیں صرف کرہا ہے اور ہم تمام لوگوں کی مدد کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں جو ولادیمیر پوتن کی خوفناک جنگ سے زخمی ہوئے ہیں۔
روسی فوجیوں نے 24 فروری کو یوکرین پر حملہ کیا تھا ۔