بوسنیا ہرزیگوینیا کے مشرقی شہر سربرینٹثا میں جولائی 1995 کو ہونے والی نسل کشی کی 27 ویں برسی کے موقع پر ایک یادگاری رسم کا اہتمام کیا گیا۔
بوسنیا ہرزیگوینا میں جنگ کے دوران اقوام متحدہ کے فوجیوں کے اڈے کے طور پر استعمال ہونے والی پرانی بیٹریوں کی فیکٹری میں منعقدہ یادگاری پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے بوسنیا ہرزیگوینا کی صدارتی کونسل کے صدر سیفیک دزافیرووچ نے یاد دلایا کہ 27 سال گزرنے کے بعد بھی نسل کشی کے سینکڑوں متاثرین کی ہڈیاں کاوسراغ نہ مل سکا اور اس طرف توجہ مبذول کروائی کہ نسل کشی منصوبہ بند ی کے تحت کی گئی۔
اس بات ک کہ سریبرینٹثا آج دنیا کا سب سے اداس شہر ہے کا اظہار کرتے ہوئے ، زافرووچ نے کہا،
"یہاں پر ہونے والی نسل کشی ایسی صورت حال نہیں ہے جسے جگہ اور وقت تک محدود رکھا جا سکے۔ یہاں ہزاروں انسانوں کا خونخوار طریقے سے قتل کیا گیا۔ "
بوسنیا ہرزیگوینیا کے نمائندہ اعلی کرسٹین شمد نے اس مقام کو آنے پر ہمیشہ دل پر ایک بوجھ محسوس کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں اس چیز کا بھی بوجھ محسوس کرتا ہوں کہ بین الاقوامی ادارے معصوم انسانوں کا تحفظ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
یورپی یونین کے خارجہ تعلقات اور سلامتی کی پالیسی کے اعلیٰ نمائندے جوزف بوریل نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اس پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور ، انصاف لینے کے کی جدوجہد جو سریبرینٹثا کی مائیں برسوں سے جاری رکھے ہوئے ، یہ ہم سب کے لیے ایک مثال ہونی چاہییں اور یہ قوم کی ہیرو ہیں۔ یورپی یونین بوسنیا ر ہرزیگووینا کے شانہ بشانہ ہے۔
مونٹی نیگرے کے وزیر اعظم دریتن ابازووچ نے 1995 میں سریبرینیٹثا میں انسانیت کا قتل کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نفرت کے جذبات اب بھی بلقان میں زندہ ہے، لیکن یہ خوش قسمتی ہے کہ انہوں نے جنگ کی ماہیت اختیار نہیں کی۔
اس پروگرام میں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے نائب چیئرمین نعمان قرتولمش، سیکرٹری جنرل اور انقرہ سے رکن اسمبلی فاتح شاہین، ترکی-بوسنیا ہرزیگووینا بین الا پارلیمانی دوستی گروپ کے صدر اور برصا سے رکن اسمبلی رفیق اوزین، ثقافت اور سیاحت کے نائب وزیر احمد مصباح دیمرجان، ترکی کے سرائیوو میں سفیر صادق بابور گرگین نے بھی شرکت کی۔
امسال کی رسم کے بعد یادگاری قبرستان میں مدفن مقتولین کی تعداد 6 ہزار 721 ہو جائیگی۔