ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ترکی نے 48 سال  قبل قبرص پُر امن کاروائی کا آغاز کیسے کیا؟

ترکی نے 48 سال  قبل قبرص پُر امن کاروائی  کیسے  شروع کی؟

 

ترکی کے فوجی آپریشن    نے یونانی حمایت یافتہ نسل کشی کرنے والی ملیشیا کو پسپا کر دیا جنہوں نے قبرصی ترکوں  کا خون بہایا تھا۔

شمالی قبرصی  ترک جمہوریہ   ہر سال 20 جولائی کو پُر امن کاروائی   اور یومِ  آزادی کے طور پر مناتی ہے۔

ترکی نے قبرصی ترکوں کو ظلم و ستم سے بچانے کے لیے 20 جولائی   1974 میں قبرص  پُر امن  کاروائی کا آغاز کیا۔

بدھ کو اس آپریشن کی 48 ویں بر سالگرہ  منائی جا رہی ہے۔ اس روز  ترکی نے   قبرصی  ترکوں کو  کو بڑے پیمانے پر قتل  ہونے سے  بچایا اور جزیرے کی دو اقوام   پر   مشتمل  ڈھانچے  ، آزادی  کو  برقرار رکھتے ہوئے قبرص کے یونان کے ساتھ الحاق کو روکا۔

 

جمہوریہ قبرص 16 اگست 1960 کو دو مساوی معاشروں کی بنیاد پر قائم ہوا    تھا۔

 

ترکی اور  قبرصی ترکوں دونوں ہی نے   پہلے دن سے ہی جمہوریہ کا خیرمقدم کیا، لیکن چیزیں اس وقت بگڑ گئیں جب یونانی قبرصی صدر آرچ بشپ ماکاریوس نے کہا کہ جمہوریہ Enosis (یونان کے ساتھ اتحاد) کی طرف  ایک قدم ہے۔

یونانی قبرصیوں نے 21 دسمبر 1963 کو  قبرصی ترکوں   کے خاتمے  اور پورے جزیرے  پر 48 گھنٹوں پر اپنا مکمل قبضہ کرنے کے لیے   اکریتاس پلان کا آغاز کیا  لیکن    قبرصی  ترکوں نے   اس ظلم و ستم کے خلاف   مزاحمت  شروع کردی۔

ضامن ملک ترکی نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو 11 برسوں تک   اپنے ہاتھ پاوں ہلانے کی اپیل کی، لیکن اس کی یہ کوششیں  نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکیں۔ قبرصی یونانیوں نے 15 جولائی  1974 کو  دوسری نسل   کشی کرنے کا مقصد ہونے والے  افیستوس  منصوبے کو شروع کیا۔

 

15جولائی  1974 کو یونانی فوجی   ٹولے    نے بغاوت کرتے ہوئے اولین طور پر ماکاریوس کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا اور ترکی نے یونان اور برطانیہ   کے ساتھ مذاکرات  شروع کر دیے۔ان مذاکرات کے نتیجہ خیز نہ بننے  پر ترکی  نے 20 جولائی کو جزیرے پر قدم رکھے اور آئینی  نظام کی   بحالی کا  مطالبہ  پیش کیا۔

 

1974 قبرص پر امن  کاروائی کے غازی یلماز بورا  نے انادولو ایجنسی کو بتایا ہے کہ” اگر یہ کاروائی نہ کی جاتی تو  یہ لوگ قبرصی ترکوں کا قتل عام کر ڈالتے۔  یہ ہمارا پختہ یقین ہے کہ شمالی قبرصی ترک جمہوریہ   اپنے مادر وطن کے تعاون و حمایت سے  روز ِ آخر تک  اپنے وجود کو برقرار رکھے گا۔”

 

چالیس سال بعد شمالی قبرصی ترک جمہوریہ  کی قیادت کو احساس ہوا کہ بین الاقوامی برادری نے جان بوجھ کر ان کی ریاست کو تسلیم نہیں کیا اور ان کی تقدیر کو   غیر یقینی سے دو چار کیا۔۔ TRT ورلڈ  کو  ایک خصوصی انٹرویو میں شمالی قبرصی ترک جمہوریہ   کے وزیر خارجہ تحسین ارطغرل اولو نے کہا کہ شمالی قبرصی ترک جمہوریہ   یک ریاستی حل پر یقین نہیں رکھتا کیونک قبرصی یونانی ،  قبرصی ترکوں سے  مساوی  سلوک  نہیں  کرتے اور انہیں اپنے برابر کا شراکت دار نہیں مانتے۔

 

ارطغرل نے بتایا کہ "ہم نے شراکت داری کے متبادل کا بھی تجربہ کیا، لیکن بے سود ثابت ہوا۔ آیا کہ کیوں ؟ کیونکہ  قبرصی یونانی  ، قبرصی ترکوں کو  اپنے مساوی    ہونے  کی سوچ کو قبول نہ کر سکے۔ "، شراکت داری کی بنیاد پر   جمہوریت قائم کرنے کے حل چارے کا تجربہ بھی کیا گیا جو کہ  دیگر  شراکت دار اس  کو فائدہ مند بنانے   کی عدم خواہش کے باعث   ناکامی سے دو چار ہوا۔

 

انقرہ  قبرصی ترکوں کے تحفظ  کو فراہم  کرنے کے لیے  جزیرے  میں  اپنے فوجیوں کے وجود   کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

 

شمالی قبرصی ترک جمہوریہ   کے  وزیر خارجہ کے مطابق اقوام متحدہ نے دیگر بین الاقوامی اداروں کی طرح مسئلے کے حل کے بجائے اس کا حصہ بننے کو ترجیح دی۔ کیونکہ اقوام متحدہ نے 1974 میں ترکی کی طرف سے کیے گئے آپریشن کو تنازعہ کا  منبع   تصور کرتے ہوئے  مسئلہ قبرص  کی تشخیص کی۔

 

وزیر خارجہ کے مطابق خواہ ہر کوئی 1974 میں "ترک فوجی آپریشن” کے بارے میں ہم فکر ہی کیوں نہ ہو بین الاقوامی برادری اس حقیقت کو دیکھا ان دیکھا کر رہی تھی کہ اصل میں اس آپریشن کو مہمیز دینے والا پہلو قبرصی یونانیوں کا قبرصی ترکوں کے حقوق سلب کرنا ہے۔

ارطغرل اولو نے اس جزیرے کے ایک صدی سے طویل عرصے تک عثمانی سلطنت میں شامل رہنے کی طرف اشارہ کیا اور کہا ہے کہ ترکی کبھی بھی اس جزیرے کو یونان کا حصہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔

"ہم اس جزیرے پر چاند سے نہیں اُترے۔ ہمارے  آباو اجداد اناطولیہ سے یہاں آئے۔ ہم جزیرہ قبرص کے ترک باسی ہیں۔ ‘قبرصی’ نامی کسی ملت کا کوئی وجود نہیں ہے۔ یا تو قبرصی یونانی ہیں یا پھر قبرصی ترک یا پھر اقلیتوں میں آرمینی اور مارونی کمیونٹیاں ہیں۔

 

‘ہم باہر نکلنے سے ڈرتے تھے’

 

1947  کے امن آپریشن  کےغازیوں میں سے عمر اوزیلدرم نے کہا ہے کہ امن آپریشن سے قبل ہم نہایت خراب حالات میں زندگی گزار رہے تھے۔

اناطولیہ خبر رساں ایجنسی کے لئے انٹرویو میں  اوزیلدرم نے کہا ہے کہ "یونانی 1963 اور 1974 کے سالوں میں ہمارے گاوں سے لوگوں کو لے جا کر ہلاک کر دیتے تھے۔ ہمیں گھر سے باہر نکلتے ہوئے ڈر لگتا تھا۔ آپریشن سے قبل ہم نے اپنا اسلحہ اقوام متحدہ امن فورس کے حوالے کر دیا اور امن فورس نے ہمارا اسلحہ یونان پولیس کو دے دیا۔

 

اوزیلدرم نے کہا ہے کہ موضوع بحث جزیرے کی سلامتی ہونے پر ہمیں اقوام متحدہ امن فورسز اور امریکہ پر اعتماد نہیں تھا۔

"میں صرف ترک  فوج پر بھروسہ کرتا ہوں ترک فوج کو جزیرے میں رہنا چاہیے۔  اگر ترک فوج جزیرے سے نکل گئی تو ہمارا انجام بخیر نہیں”۔

مسئلہ قبرص اس اسٹریٹجک اہمت کے حامل مشرقی بحیرہ اسود میں مقیم دو مختلف ادیان اور دو مختلف نسلوں کے معاشروں یعنی قبرصی ترکوں اور قبرصی یونانیوں کے درمیان ایک طویل عرصے سے چلتا چلا آنے والا تنازعہ ہے۔

متنازع جزیرے کے اسٹیٹس کے بارے میں بیسیوں سالوں سے جاری سیاسی الجھاو کے بعد قبرصی ترک ‘ واحد حکومت کے نظریے’ پر یقین نہیں رکھتے۔ واحد حکومتی حل جمہوریہ قبرص کے دو معاشروں اور دو علاقوں کے اتحاد سے قائم کیا گیا ایک ایسا  فارمولہ ہے کہ جس بین الاقوامی برادری 1960 سے مسلط  کرنےکی کوشش کر رہی ہے۔

 

قبرص امن آپریشن کے ایک اور غازی بیسم فاروق جان نے اناطولیہ خبر رساں ایجنسی کے لئے انٹرویو میں کہا ہے کہ "میں قبرص میں کسی وفاقی حل کی حمایت نہیں کرتا۔ اگر دونوں معاشروں کو مِل کر رہنا پڑا تو یہ ایک تباہی ہو گی”۔

"قبرصی ترکوں اور یونانیوں کا مِل کر رہنا ناممکن ہے۔ ہم شمالی حصے میں رہتے ہیں اور ہمیں کسی مسئلے کا سامنا نہیں ہے”۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں