ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

عدم اعتماد کے دوران پی ٹی آئی اراکین کو 13 ارب دیے گئے مگر ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہو سکا

جن دنوں میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آنے والی تھی ان کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کو ترقیاتی کاموں کے لئے 13 ارب روپے دیے گئے تھے مگر اب تک ان ترقیاتی منصوبوں پر محض 0.06 فیصد ہی کام کروایا جا سکا ہے۔

سماء ٹی وی پر معروف صحافی طلعت حسین کے پروگرام میں تحقیقاتی صحافی زاہد گشکوری نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے دنوں میں تحریک انصاف کے خیبر پختون خوا سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی کو 1900 ترقیاتی سکیموں کے لئے 13 ارب 85 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈ دیے گئے تھے۔ یہ رقوم Sustainable Development Fund کے تحت جاری ہوئیں جو غریب ترین علاقوں کو دیے جاتے ہیں اور جنہیں عالمی طور پر مانیٹر بھی کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ 1900 سکیمیں محض کاغذ پر موجود ہیں اور ان پر محض 0.06 ہی فیصد کام کروایا گیا ہے۔

تفصیل بتاتے ہوئے زاہد گشکوری کا کہنا تھا کہ صرف ضلع سوات میں 64 سکیموں کے لیے 1 ارب 30 کروڑ روپے جاری کئے گئے تھے جس پر اب تک 0 فیصد کام ہوا ہے۔ باقی کے فنڈز صوابی، پشاور، نوشہرہ اور ڈی آئی خان کے اضلاع کے لئے جاری کیے گئے مگر کہیں بھی کام نہیں کروایا گیا ہے۔ یہ خیبر پختون خوا کے وہ اضلاع ہیں جہاں سے پاکستان تحریک انصاف کے اہم لوگوں کا تعلق ہے اور اسی لئے یہ فنڈز ان علاقوں کو دیے گئے ہیں۔

زاہد گشکوری نے یہ بھی بتایا کہ مجموعی طور پر اپنے 4 سالہ دور حکومت میں عمران خان نے 7 ہزار ترقیاتی سکیموں کے لیے 35 ارب روپے جاری کئے تھے مگر ان پر بھی کوئی قابل ذکر ترقیاتی کام نہیں ہو سکا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں