برطانوی وزیر اعظم رشی سوناک کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں کو جلد واپس بھیج دیا جائے گا۔
سوناک نے برطانوی پارلیمنٹ میں غیر قانونی امیگریشن سے نمٹنے کے لیے نئے 5 نکاتی منصوبے کے حوالے سے بیانات دیے۔
یہ بتاتے ہوئے کہ عالمی پناہ کا نظام اب بیکار اور فرسودہ ہے، سوناک نے کہا کہ "دشمن ریاستیں” یورپی سرحدوں پر امیگریشن کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہیں۔
سوناک نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی طور پر برطانیہ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والوں کی اکثریت "محفوظ ممالک” سے جاتی ہے۔
اس تناظر میں انہوں نے غیر قانونی امیگریشن سے نمٹنے کے لیے 5 نکاتی منصوبے کا تعین کیا ہے اور اولین طور پر انگلش چینل کو عبور کرنے والی چھوٹی کشتیوں کی نگرانی کے لیے قائم کیے جانے والے نئے یونٹ میں 700 اہلکار تفویض کیے جائیں گے۔
سوناک نے اطلاع دی ہے کیا کہ البانیہ کے ساتھ نئے معاہدے کے تحت برطانوی سرحدی محافظین کو البانیہ میں تعینات کیا جائے گا اور البانیہ کے تارکین وطن کی درخواستوں پر غور کرنے کے لیے 400 ماہرین پر مشتمل ایک خصوصی یونٹ قائم کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ غیر استعمال شدہ ہالیڈے پارکس، سابق طلباء کے ہاسٹل اور اضافی فوجی رہائش گاہوں میں اسوقت ہوٹلوں میں قیام پذیر 10 ہزار پناہ گزینوں کو ٹہرایا جائیگا۔
سوناک نے اس بات پر زور دیا کہ برطانوی حکومت ایک قانون پاس کرے گی جو انگلش چینل عبور کرنے والے تارکین وطن کو اگلے سال کے اوائل میں برطانیہ میں قیام کرنے کا سد باب کرے گا۔
"اگر آپ غیر قانونی طور پر برطانیہ میں داخل ہوتے ہیں، تو آپ یہاں نہیں رہ سکتے۔ آپ کو تیزی سے آپ کے آبائی ملک یا کسی محفوظ ملک میں واپس بھیج دیا جائے گا جہاں آپ کی سیاسی پناہ کی درخواست پر غور کیا جائے گا۔”