ترکیہ کے صدر جب طیب ایردوان نے دہشت گرد تنظیموں کے مدد گار حلقوں کے خلاف ردعمل کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ "بعض حلقے ابھی تک ہماری حدود کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ یہ حلقے دہشت گرد تنظیموں کوہمارے اوپر مسلط کر کے ماضی کو دوہرانے کے خواہش مند ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بوسیدہ سیناریو اب کسی کام نہیں آئے گا”۔
صدر رجب طیب ایردوان نے دارالحکومت انقرہ میں صدارتی سوشل کمپلیکس سے، شاہرائے ‘بتلیس چائے ویاندوعو ‘اور ‘لنک روڈز’ کی افتتاحی تقریب میں آن لائن شرکت کی۔
افتتاحی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا ہے کہ جس طرح ہم نے اپنے شہر بتلس پر منڈلاتے دہشت گردی کے سائے دُور ہٹا کر شہر میں امن و امان کا بول بالا کیا ہے اسی طرح انفراسٹرکچر سرمایہ کاری کے ساتھ ہم اپنے ترقیاتی اہداف کے راستے کی رکاوٹوں کو بھی دُور ہٹا رہے ہیں”۔
صدر ایردوان نے کہا ہے کہ ترکیہ کے ایجنڈے کی طرح اب بتلیس کا ایجنڈہ بھی ترقی پذیر پیداوار اور رفاح کے مرکز کے ساتھ شکل پذیر ہو گا۔ خواہ کوئی کتنا ہی دہشت گردی کو ہم پر مسلط کر کے ماضی کے دنوں کو دوبارہ تازہ کرنا کیوں نہ چاہے، اب یہ سیناریو کسی کام نہیں آئے گا۔ ہماری ملت ماضی میں دہشت گردی کی نذر ہونے والی جانوں اور دہشت گردی کی وجہ سے جھیلی گئی تکالیف کو کبھی فراموش نہیں کرے گی اور دہشت گردی کے حامیوں کو ہرگز موقع نہیں دے گی”۔
صدر ایردوان نے کہا ہے کہ گذشتہ 20 سالوں میں ہم نے اپنے ملک کو جو جمہوریت اور ترقیاتی انفراسٹرکچر عطا کیا ہے اسے ایک بڑے ترقیاتی دور میں تبدیل کرنے کے لئے ہم ترکیہ کے سو سالہ منصوبے کا آغاز کر رہے ہیں”۔
انہوں نے کہا ہے کہ سالوں سے مصنوعی جھگڑوں ا ور تنازعات کے ساتھ اس ملک کے وقت اور طاقت کو ضائع کرنے والوں کو ہم اپنے کاموں اور خدمات کی سطح کو مستقل بلند کر کے جواب دے رہے ہیں۔ ہم سیاسی، سفارتی اور سلامتی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاریوں ، روزگار کی فراہمی اور برآمدات میں بھی اضافہ کر کے ہم اپنے ملک کو چوٹی پر پہنچانا چاہتے ہیں”۔