یورپی یونین اور نیٹو نے اپنی عمارتوں کی روشنیاں گُل کر دیں۔
اطلاع کے مطابق 24 فروری سے جاری روس۔یوکرین جنگ میں یوکرین کے انفراسٹرکچر پر روسی حملوں کے نتیجے میں ملک میں لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے۔ یوکرینی عوام کے ساتھ اظہارِ اتحاد و یکجہتی کے لئے یورپی یونین اور نیٹو نے اپنی عمارتوں کی روشنیاں بجھا دی ہیں۔
بیلجئیم کے دارالحکومت برسلز میں یورپی یونین کمیشن، یورپی یونین کونسل اور یورپی پارلیمنٹ جیسی یورپی یونین عمارتوں کے ساتھ ساتھ نیٹو ہیڈ کوارٹر میں بھی روشنیاں بجھا دی گئیں۔
یورپی یونین کمیشن نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "روس نے 10 ملین یوکرینیوں کو سردی اور اندھیروں کی نذر کر دیا ہے”۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین، سینکڑوں جنریٹر بھیج کر، لوڈ شیڈنگ کے مقابل یوکرینی عوام کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔ بیان میں یوکرین کو جنریٹروں کی فراہمی کی مہم کے ساتھ تعاون کی بھی اپیل کی گئی ہے۔
یورپی یونین کمیشن کی سربراہ اُرسولا وان ڈر لئین نے بھی کہا ہے کہ یوکرین کے الیکٹرک انفراسٹرکچر پر حملوں سے روس کا مقصد یوکرین کو اندھیروں میں دھکیلنا ہے۔ ہم نے یوکرین کے صدر ولادی میر زلنسکی کی طرف سے اتحاد کی اپیل کا فوری جواب دیا ہے۔
نیٹو نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ یوکرین کے ہسپتالوں کو جنریٹروں کی فراہمی کے لئے اور دنیا کی توجہ اس ملک پر مرکوز کرنے کے لئے شروع کی گئی مہم کے ساتھ تعاون کیا جا رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ انفراسٹرکچر پر روسی حملوں کی وجہ سے یوکرینی عوام بہت مشکل حالات کا شکار ہیں۔ نیٹو اتحادیوں نے، یوکرین میں بجلی کے گرِڈوں کی تعمیر و مرمت کے لئے ضروری سامان، گرم ملبوسات، ایندھن اور جنریٹر سمیت، مختلف نوعیت کا امدادی سامان فراہم کیا ہے۔