وزیر قومی دفاع حلوصی آقار نے کہا ہے کہ ترک مسلح افواج اپنے امکانات اور صلاحیتوں کی بدولت دنیا کی گنی چنی افواج میں شامل ہوتی ہیں ۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار غازی انتیپ کی آزادی کی 101 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ جو جس کے افواج کے بین الاقوامی پلیٹ فارم پر چرچے ہیں کی صلاحیتوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور دنیا کے طاقتور ترین ممالک کی صف میں شامل ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ نے روس-یوکرین جنگ کے خاتمے اور جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے ایک فعال سفارت کاری کا مظاہرہ کیا ہے، وزیر آقار نے کہا کہ ترکیہ نے خوراک کے بحران پر قابو پانے کے لیے اناج کی کھیپ پر دستخط کرنے اور اس میں توسیع کے لیے بہت زیادہ تعاون کیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ یونان ہر گزرتے دن کے ساتھ نئی کشیدگی کا باعث بن رہا ہے، آقار نے کہا کہ ترکیہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے کوشاں ہے اور یونان کا ایسا رویہ ہے جو عدم استحکام کو ہوا دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہمارے دروازے قبرص، بحیرہ ایجیئن اور مشرقی بحیرہ روم کے موضوع سے متعلق بات چیت کے لیے کھلے ہیں، لیکن ہم کسی کو ہمارے پر فیصلہ ٹھوسنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے اور اپنے قبرصی بھائیوں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ترک مسلح افواج کا اپنے امکانات اور صلاحیتوں کی بدولت دنیا کی صف اول کی افواج میں شمار ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "ہماری بہادر فوج چاہے کہیں سے بھی خطرہ لاحق ہو ، اپنے ملک اور ہاپنی عظیم قوم کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔