ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پیرو، صدر مخالف احتجاجی مظاہروں نے ایک بار پھر زور پکڑ لیا

پیرو میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں، 11 دسمبر سے ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل کر صدر دینا بولوآرتے کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

پیرو پریس کی خبر کے مطابق کئی شہروں بالخصوص دارالحکومت لیما میں جلوس نکالنے  والے مظاہرین کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ وقتاً فوقتاً جھڑپیں ہوئیں ۔

پولیس نے مظاہرین کے پتھروں اور   پیٹرول بموں سے حملوں کا جواب  آنسو گیس سے دیا اور کئی لوگوں کو حراست میں لے لیا۔

ان واقعات میں 20 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات  ہیں۔

دوسری جانب حکومت نے اعلان کیا کہ اس نے لیما اور ملک کے جنوب میں کچھ شہروں میں 15 جنوری کو اعلان کردہ ایک ماہ کی ایمرجنسی کے نفاذ  میں 30 دن کی توسیع کر دی ہے۔

پیرو پریس کے مطابق 11 دسمبر سے جاری مظاہروں میں 64 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں اور زخمیوں کی تعداد 1700 سےمتجاوز ہے۔

خیال رہے کہ 7 دسمبر کو کانگریس کی جانب سے سابق صدر پیدرو کاستیلو کے مواخذے کے بعد ملک میں مظاہرے شروع ہوئے تھے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں