ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بائیڈن نے 2024 کے لیے امریکہ کا 6.8 ٹریلین ڈالر کا بجٹ پیش کر دیا

امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعرات کے روز 2024 کے لیے امریکی حکومت کے اخراجات کا تخمینہ پیش کیا۔ 6.8 ٹریلین ڈالر کے بجٹ میں صدر نے پالیسی کے درجنوں نئے منصوبے پیش کیے ہیں اور کارپوریشنز اور دولت مندوں پر ٹیکسوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔

تاہم کانگریس میں ریپبلکن اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس بجٹ کی کانگریس سے منظوری کا کوئی امکان نہیں۔

صدر بائیڈن کی, جو ایک ڈیموکریٹ ہیں, صدارت کی یہ پہلی مدت ہے اور وہ آئندہ سال کے صدارتی انتخابات میں دوبارہ منتخب ہونے کی امید رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے دوبارہ انتخاب کو نظر میں رکھتے ہوئے مطالبہ کیا کہ چین کی معیشت اور فوجی قوت کے مقابلے کے لیے فنڈز میں اضافے کی ضرورت ہے جن میں امریکیوں کے لیے صحت کی سہولتیں، تعلیم کے نئے مواقع اور ملک کے ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کے لیے زیادہ قابل عملے کا حصول شامل ہے۔


صدر بائیڈن کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے سالانہ خطاب کر رہے ہیں۔

صدر بائیڈن کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے سالانہ خطاب کر رہے ہیں۔

بجٹ کی سمری میں وائٹ ہاؤس نے کہا کہ امریکہ کی صرف چین سے مسابقت ہے، جو بین الاقوامی نظام کو از سر نو تشکیل دینے کا عزم رکھتا ہے اورایسا کرنے کے لیے وہ تیزی سے اقتصادی، سفارتی، فوجی اور تکنیکی طاقت میں اضافہ کر رہا ہے۔

امریکی بجٹ کا اعلان ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب امریکہ میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں میں یہ بحث جاری ہے کہ ملک کے قرضے کی 31.4 ٹریلین ڈالر کی حد (Debt Ceiling)میں اضافہ کیسے کیا جائے۔


صدر بائیڈن میری لینڈ کے ایک ٹاؤن ہال اجلاس میں تقریر کررہے ہیں۔ 15 فروری 2023

صدر بائیڈن میری لینڈ کے ایک ٹاؤن ہال اجلاس میں تقریر کررہے ہیں۔ 15 فروری 2023

اگر آئندہ مہینوں میں صدر بائیڈن اور کانگریس میں ڈیٹ سیلنگ میں اضافے پر اتفاق نہیں ہوتا تو پہلی دفعہ ایسا ہوگا کہ امریکہ اپنے قرضے ادا نہیں کر سکے گا اور یہ مالی تباہی ہوگی جو عالمی منڈیوں کو متاثر کرے گی اور امریکہ میں بیروزگاری میں اضافہ ہوگا۔

ریپبلکن اکثریت والے ایوانِ نمائندگان میں بائیڈن کے مخالفین مستقبل کے اخراجات کے فنڈز میں بڑی کٹوتیوں کا مطالبہ کر چکے ہیں چہ جائے کہ ان میں اضافہ کیا جائے، جن میں صدر بائیڈن کا ملکی بجٹ میں طویل عرصے سے موجود خسارے کو، جو اب ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہو چکا ہے، کم کرنے کا اکتوبر سے شروع ہونے والا منصوبہ بھی شامل ہے ۔

ریپبلکن کہتے ہیں کہ حکومت کے اخراجات قابو سے باہر ہوتے جا رہے ہیں اور انفرادی پروگراموں کو یا تو ختم کر دیا جائے یا ان میں خاصی کمی کر دی جائے۔ اس کے برعکس بائیڈن اپنے نئے یا توسیع شدہ منصوبوں کے لیے رقم حاصل کرنے کی غرض سے، زیادہ آمدنی والے امریکیوں پر جو چار لاکھ ڈالر سالانہ کماتے ہیں اور کارپوریشنز پر ٹیکسوں میں اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

امریکی ایوانِ نمائندگان کے سپیکر کیون میکارتھی۔ فوٹو اے پی

امریکی ایوانِ نمائندگان کے سپیکر کیون میکارتھی۔ فوٹو اے پی

ریپبلکنز نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ وہ کن منصوبوں میں تخفیف یا کن پروگراموں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ ماہ اس کی تفصیل بتا دیں گے۔

صدر بائیڈن نے امریکی ریاست پنسلوانیا کے شہر فلاڈلفیا کے یونین ہال میں بجٹ کا اعلان کرتے ہوئے ایوان کے سپیکر کیون میکارتھی پر زور دیا کہ وہ بھی اپنا منصوبہ پیش کریں تاکہ دونوں کا موازنہ کر کے وہ نکات طے کیے جائیں جن پر اتفاقِ رائے ہو۔

صدر نے کہا، ’’میں نے اپنے بجٹ کا بڑا حصہ بیان کر دیا ہے۔ کانگریس میں رپبلکنز کو بھی ایسا ہی کرنا چاہئیے۔ پھر ہم مل کر بیٹھ جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہمارے درمیان اختلاف کن نکات پر ہے۔‘‘

(وی او اے نیوز)

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں