مانسہرہ: جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ انتخابات کا بگل بج چکا ہے، لیکن ابہام اور بے یقینی ہے، آئین کے مطابق فیصلے نہ ہونے سے گورنرز، عبوری حکومتیں، الیکشن کمیشن، سول بیوروکریسی اور ملٹری اسٹبلشمنٹ اپنے آپ کو مزید متنازع اور بے اعتماد کررہی ہیں۔
لیاقت بلوچ نے کہاکہ اگر اس بات پر اتفاق نہیں ہوتا تو عدالت، سول ملٹری اسٹبلشمنٹ یا اقتدار کے رسیا گروہ کو اس بات کا حق نہیں ہے کہ پاکستان کو آئین، جمہوریت اور ووٹ کے حق سے محروم کریں۔
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ صرف پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات ملکی استحکام کے لیے مضبوط بنیاد نہیں بن سکتے، قومی اسمبلی، سندھ اور بلوچستان کی اسمبلیاں تحلیل کرکے پورے ملک میں ایک ہی دن قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہونے چاہئیں۔
انہوں نے کہاکہ اتحادی سیاست کی ناکامی نوشت دیوار ہے۔ اتحادوں کے پارٹنر چھوٹے چھوٹے مفادات پر سجدہ ریز ہوتے اور بڑے مفادات کا قتل کر دیتے ہیں۔ جماعت اسلامی تمام تجربات کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اللہ پر توکل کرتے ہوئے غلبہ دین کے لیے اپنے جھنڈے، نشان اور قیادت کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔
لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان مفاہمت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ یہ عالم اسلام کے لیے نیک شگون ہے۔ امید ہے دونوں ممالک کے تعلقات سے امت کے اندر اتفاق و اتحاد کے راستے نکلیں گے۔ انسانوں پر بالادستی کے لیے انسانوں کے قائم کردہ نظام ناکام ہوچکے ہیں۔
