وسطی امریکہ کے ملک ہونڈوراس نے تائیوان کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر کے چین کے ساتھ سرکاری سفارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ہونڈوراس کے صدر ‘شیومارا کاسٹرو’ نے ٹویٹر سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ” میں نے، اپنےحکومتی پلان کو عملی شکل دینے اور اقوامِ عالم کے ساتھ ہم آہنگ حالت میں سرحدوں کو آزادانہ شکل میں وسعت دینے کے عزم کے اظہار کے لئے، وزیر خارجہ ‘ایڈوارڈو ریئینا’ کو چین کے ساتھ سرکاری تعلقات شروع کرنے کا حکم دیا ہے”۔
چین کے ساتھ سفارتی تعلقات شروع کرنے کے بعد ہونڈوراس ، حالیہ سالوں میں چین کے حق میں تائیوان کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے والے، پاناما، السلواڈور، جمہوریہ ڈومینیکن اور نکاراگوا جیسے لاطینی امریکی ممالک کی صف میں شامل ہو جائے گا۔
تائیوان کو بحیثیت ملک تسلیم کرنے کے بعد حالیہ سالوں میں ہونڈوراس کے چین کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔
ہونڈوراس کے بھی تائیوان سے تعلقات منقطع کرنے کے بعد تائیوان کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد 13 رہ گئی ہے۔
واضح رہے کہ "واحد چین” کے اصول کے تحت بیجنگ انتظامیہ کا موقف ہے کہ بین الاقوامی برادری میں صرف بیجنگ انتظامیہ ملکی نمائندگی کرتی ہے اور اگر تائیوان نے اعلان آزادی کیا تو عسکری مداخلت کی جا سکتی ہے۔
1949 میں چین میں ماوزے تنگ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض حکومتی اراکین تائیوان فرار ہو گئے اور جزیرے میں اعلانِ آزادی کر کے بحیثیت قوم پرست چین ‘تائیوان ‘ حکومت قائم کر دی لیکن چین نے تائیوان کی آزادی کو تسلیم نہیں کیا تھا۔