اسلام آباد : وفاقی وزیر توانائی انجینئر خرم دستگیر نے کہا ہے کہ ” ایمپرئیل سپریم کورٹ ” کا سامنا ہے بار بار آئین کو روند کر گزر جاتی ہے ۔ عدلیہ تو آزاد ہو گئی ہے مگر عدل اب بھی قید ہے تصادم نہیں چاہتے مگر اپنے جمہوری آئینی حق پر اصرار کرتے رہیں گے ۔
وفاقی وزیر برائے توانائی نے کہاکہ عوام کے حق حاکمیت پر اب ڈاکہ نہیں ڈالا جا سکتا، آئین کی گولڈن جوبلی قریب آ گئی ہے اسی آئین کے ابتدائیہ میں اللہ کے اقتدار اعلی اور عوام کے حق حاکمیت کا ذکر کیا گیا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ عوام کے حق حاکمیت پر بار بار ڈاکہ ڈالا گیا جب حق رائے دہی کو پس پشت ڈال دیا گیا تو ملک ٹوٹ گیا ۔ ہم نہ صرف حق حاکمیت کے لیے برسرپیکار رہے بلکہ نظریہ ضرورت اور فوجی آمریتوں کے خلاف بھی برسرپیکار رہے ۔ نظریہ ضرورت فوجی آمریت سے گٹھ جوڑ کی وجہ سے زندہ رہا ۔
خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ اسی حق حاکمیت کے لیے دہشت گردوں سے مقابلہ کیا اب ہمیں ایمپرئیل سپریم کورٹ کا سامنا ہے جو آئین کو روند کرگزر جاتی ہے ۔ نظریہ ضرورت کار فرما رہتا ہے اور 2009 تک تو اعلی عدالتوں اور آمریتوں کا گٹھ جوڑ واضح تھا نظریہ ضرورت مسلط کیا گیا بھٹو کے عدالتی قتل سے لے کر ظفر علی شاہ کیس جس میں مشرف کو اقتدار میں رہنے کے لیے تین سال اور آئین میں تبدیلی کی اجازت دے دی گئی ۔
