ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

میانمار میں سمندری طوفان سے اموات کی تعداد 145 تک جا پہنچی

میانمار کی فوجی حکومت نے بتایا کہ سمندری طوفان موچا میں جان بحق ہونے والوں  کی تعداد 145 ہو گئی ہے۔

میانمار کی فوج کے میڈیا  عناصر  میں سے ایک ایم آر ٹی وی کی خبر کے مطابق 14 مئی کو آنے والے سمندری طوفان موچا سے سب سے زیادہ نقصان اراکان ریاست کو پہنچا۔

سمندری طوفان کی وجہ سے 117 روہنگیا مسلمانوں اور 4 فوجیوں سمیت کل 145 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اراکان روہنگیا نیشنل آرگنائزیشن کے سابقہ ​​بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہ اراکان میں سمندری طوفان میں کم از کم 400 افراد، جن میں زیادہ تر مسلمان تھے، اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، یہ دعویٰ کیا گیا کہ مرنے والوں کی تعداد 400 سے تجاوز کرنے والے غیر سرکاری اعداد و شمار اصلیت  کی عکاسی نہیں کرتے۔

دریں اثنا، اس بارے میں کوئی تفصیلی معلومات نہیں دی گئیں کہ آیا  کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد کا تعلق آراکان سے تھا۔

بتایا گیا ہے جانی نقصان کی وجہ سمندری طوفان شروع ہونے سے قبل حکام کی جانب سے انخلاء کے انتباہات کو خاطر میں نہ لانا تھا۔

بتایا گیا ہے کہ 12 مئی سے ابتک  آراکان کے 17 کیمپوں میں مقیم  125,789 میں سے 63,302 روہنگیا مسلمان پناہ گزینوں کو نکالا جا چکا ہے۔

دوسری جانب بتایا گیا کہ بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والے کیمپ بھی سمندری طوفان سے متاثر ہوئے تاہم یہاں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

استاد تھین شوے نےان کیمپوں میں تعلیم دینے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اراکان کے مختلف علاقوں میں کیمپوں اور دیہاتوں سے 116 سے زائد افراد، جن میں سے 32 بچے تھے، سمندری طوفان میں ہلاک ہوئے۔

شوے نے نشاندہی کی کہ یہ الزامات کہ کچھ لوگوں نے انخلاء کے انتباہات پر توجہ نہیں دی سچائی کی عکاسی نہیں کرتے۔

انہوں نے بتایا  اگرچہ حکام خوراک اور رہائش فراہم کر رہے  ہیں، لیکن  یہ  مطلوبہ سطح پر نہیں، بین الاقوامی تنظیمیں اور عطیہ دہندگان ابھی تک خطے میں نہیں پہنچے ۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں