ترقی پذیر 8 ممالک کی اقتصادی تعاون تنظیم (D-8) کے سیکرٹری جنرل اشیاکا عبدالقادر امام نے کہا کہ D-8 مستقبل قریب میں پھیل سکتا ہے۔
D-8 کے سیکرٹری جنرل امام نے تنظیم کے قیام کی 26ویں سالگرہ کے حوالے سےبیان دیتے ہوئے کہا کہ 1997 میں جب D-8 کا قیام عمل میں آیا تو اس کا بنیادی مقصد 8 ترقی پذیر ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون اور تجارت کو بڑھانا تھا اور اب بھی اس ہدفکو حاصل کرنے کے لیے کام جاری ہے۔
امام نے کہا کہ تنظیم کو اب مزید وسعت دی جاسکتی ہے اور ضابطے اس کی اجازت دیتے ہیں اور D-8 مستقبل قریب میں مزید ممالک شامل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تنظیم کے 8 ارکان ہیں اور اس میں توسیع کی گنجائش ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں کچھ دلچسپی رکھنے والے ممالک سے درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور ہم قریبی ممالک سے درخواستوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
امام نے نشاندہی کی کہ آذربائیجان کی درخواست کا جائزہ اس دائرہ کار میں لیا گیا ہے۔
1997 میں سابق وزیراعظم مرحوم پروفیسر ڈاکٹر نجم الدین ایربکان کی قیادت میں قائم اس تنظیم کے قیام کا مقصد رکن ممالک کی فلاح و بہبود اور امن میں اضافہ تھا اور یہ تنظیم گزشتہ 26 سالوں سے مضبوطی سے اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے جو تقریباً 1.2 بلین کی آبادی اور عالمی تجارت کا 14 فیصد حصہ۔
D-8 ممالک ترکی، بنگلہ دیش، مصر، انڈونیشیا، ایران، ملائیشیا، نائیجیریا اور پاکستان پر مشتمل ہیں۔